عالمی غذائی تحفظ پائیدار اور ہمہ گیر زراعت سے مشروط، ایف اے او چیف
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ دنیا کو خوراک کی فراہمی کے لیے مزید موثر، مشمولہ، مضبوط اور پائیدار زرعی غذائی نظام درکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غذائیت والی، محفوظ اور ارزاں خوراک تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ تمام لوگوں کا یہ حق یقینی بنانے اور انہیں درکار خوراک تک رسائی میں حائل مسائل پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے اور اس معاملے میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے یہ بات آج منائے جانے والے عالمی یوم خوراک پر اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر شرکا نے بین الاقوامی تناؤ، جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا شکار دنیا میں تمام لوگوں کے لیے حسب ضرورت، متنوع، غذائیت والی، ارزاں اور محفوظ خوراک کی دستیابی کی ضرورت کو واضح کیا۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بدقسمتی سے دنیا میں اربوں بچے، خواتین اور مرد غذائی قلت کا شکار ہیں۔ دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنا ممکن ہے لیکن اس کے لیے غذائی نظام بڑے پیمانے پر تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔
73 کروڑ لوگ بھوک کا شکار
ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے عالمگیر بحرانوں نے کروڑوں لوگوں کے لیے غذائی قلت کے مسائل کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے اور صحت بخش خوراک تک ان کی رسائی محدود کر دی ہے۔ دنیا میں 73 کروڑ لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے اور 2.8 لوگ صحت بخش خوراک کے حصول کی استطاعت نہیں رکھتے۔
امسال اس عالمی دن کا موضوع 'بہتر زندگی اور بہتر مستقبل کے لیے خوراک تک رسائی کا حق' اس بات کی بروقت یاد دہانی ہے کہ تمام لوگوں کو اپنی ضرورت کے مطابق خوراک کے حصول کا حق ہے۔
اس مقصد کے لیے چھوٹے کسانوں، گھریلو سطح پر زرعی خوراک پیدا کرنے والوں اور چھوٹے پیمانے پر خوراک کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو مدد دینا ہو گی۔ بہت سے ممالک میں غذائیت بھری متنوع خوراک پیدا کرنے اور روایتی غذائی رواج کو تحفظ دینے میں ان کسانوں اور کاروباری لوگوں کا اہم ترین کردار ہوتا ہے۔
غذائی تحفظ کا مثالی قانون
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غذائیت کے لیے 'ایف اے او' کے خصوصی خیرسگالی سفیر اور لیسوتھو کے بادشاہ لیستے سوئم نے کہا کہ افریقن یونین کی 'پین افریقن پارلیمنٹ' نے 'ایف اے او' کے تعاون سے غذائی تحفظ اور غذائیت کے حوالے سے ایک مثالی قانون بنایا ہے۔ اس سے یونین کے رکن ممالک کو اپنے ہاں حسب ضرورت خوراک تک رسائی کے حق کو برقرار رکھنے اور تمام شہریوں کے لیے غذائی تحفظ ممکن بنانے کی غرض سے قانون سازی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس مثالی قانون کو ٹھوس قانونی اقدام میں تبدیل کرنے کے لیے سہولت دینے کی غرض سے پورے براعظم میں پارلیمانی اتحاد قائم کیے گئے ہیں۔ اس مشترکہ کوشش سے ناصرف قانونی اقدامات وضع کرنے بلکہ ان پر موثر طریقے سے عملدرآمد میں بھی مدد ملے گی تاکہ غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
پوپ فرانسس کا پیغام
تقریب میں پوپ فرانسس کی جانب سے بھیجا گیا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ غذائیت کے سماجی و ثقافتی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس حوالے سے عالمی سطح پر سیاسی و معاشی فیصلہ سازوں کو ایسے لوگوں کی بات سننا ہو گی جو غذائی سلسلے میں سب سے آخر پر ہوتے ہیں۔ ان میں چھوٹے کسان اور خاندانوں جیسے درمیانے درجے میں آنے والے سماجی گروہ شامل ہیں جن کا لوگوں کو خوراک مہیا کرنے میں براہ راست کردار ہوتا ہے۔