انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ کو خوراک اور ایندھن سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید کمی کا سامنا، مسویا

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل جوئس ایمسویا فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔
UN Photo/Evan Schneider
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل جوئس ایمسویا فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔

غزہ کو خوراک اور ایندھن سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید کمی کا سامنا، مسویا

امن اور سلامتی

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل جوئس مسویا نے کہا ہے کہ غزہ کے حالات دن بدن بدترین ہوتے جا رہے ہیں جہاں انسانی امداد بند ہے، ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہو رہا ہے اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو غزہ کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران علاقے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریباً 400 افراد ہلاک اور 1,500 زخمی ہوئے ہیں۔الاقصیٰ ہسپتال کے قریب ہونے والے حملے کے بعد مریضوں اور پناہ گزینوں کے آگ میں جلنے کے مناظر پوری دنیا نے دیکھے۔ اسی علاقے میں پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والےسکول پر حملے میں 22 افراد کی ہلاکت ہوئی اور بہت سے زخمی ہو گئے۔

Tweet URL

خوف، بے گھری اور موت

انہوں نے بتایا کہ شمالی غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں شدت آ گئی ہے۔ زیر محاصرہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے قریب شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ فلسطینی مسلح گروہوں کی جانب سے اسرائیل پر اندھا دھند راکٹ باری بھی جاری ہے۔ اندازے کے مطابق جبالیہ سے 55 ہزار لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ پانی اور خوراک کے بغیر اس علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

منگل کو ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ امدادی کارکنوں کو ملبے تلے دبے زخمی لوگوں تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔ اس کیمپ کی تصویروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ خوفزدہ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں جبکہ ان کے لیے کہیں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

حاملہ خواتین کی زندگی کو خطرہ

انڈر سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ شمالی غزہ کے 10 ہسپتالوں میں سے تین ہی کسی حد تک فعال رہ گئے ہیں اور ان میں ایندھن، خون، زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سازوسامان اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

غزہ میں دودھ پلانے والی ایک لاکھ 55 ہزار ماؤں کو بھی شدید غذائی قلت کا سامنا ہے جبکہ بچوں کو جنم دینا انتہائی تکلیف دہ عمل بن گیا ہے۔ قبل از زچگی نگہداشت اور ادویات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔11 ہزار حاملہ خواتین کو بھوک کا سامنا ہے جس سے ناصرف ان کی بلکہ ان کے ہونے والے بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔

شمالی غزہ میں طبی مشن

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ نو ناکام کوششوں کے بعد 12 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے ایک بین الاداری طبی قافلے کو شمالی غزہ کے کمال عدوان اور الصحابہ ہسپتالوں کے لیے ایندھن، مریضوں کے لیے خون اور علاج معالجے کا دیگر سامان لے جانے اور شدید بیمار افراد کو الشفا ہسپتال میں منتقل کرنے کی اجازت ملی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) خبردار کر چکا ہے کہ کمال عدوان ہسپتال میں مزید مریضوں کے علاج کی گنجائش نہیں رہی جہاں اب بھی روزانہ 50 تا 70 زخمی لائے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور فلسطینی ہلال احمر کے ڈرائیوروں کو اسرائیلی فوج کی چیک پوسٹوں سے گزرتے وقت بدسلوکی اور عارضی حراستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امدادی خوراک کی قلت

انہوں نے بتایا کہ 2 تا 15 اکتوبر شمالی غزہ میں کوئی خوراک نہیں پہنچ سکی اور علاقے میں کھانے پینے کی چیزوں کا ذخیرہ ختم ہونے کو ہے۔

ان دنوں غزہ شہر میں 10 مقامات سے روزانہ ایک لاکھ 10 ہزار کھانے لوگوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ 11 تا 13 اکتوبر شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے بیت حنون اور بیت لاہیہ کے قریب پھنسے یا پناہ لیے لوگوں میں خوراک کے 1,500 پیکٹ اور گندم کے آٹے کے 1,500 تھیلے تقسیم کیے۔ ایندھن کی عدم موجودگی کے باعث آئندہ چند روز کے دوران علاقے میں تمام تنور بند ہو جانے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ علاقے میں رہنے والے لوگوں کو انسانی امداد سے یکسر محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔

غزہ میں انسداد پولیو مہم کے دوسرے مرحلے میں اب تک 157,000 بچوں کو ویکسین کے قطرے پلائے گئے ہیں۔
© UNRWA
غزہ میں انسداد پولیو مہم کے دوسرے مرحلے میں اب تک 157,000 بچوں کو ویکسین کے قطرے پلائے گئے ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں

انڈر سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں اسرائیل نے الرشید چیک پوائنٹ سے شمالی غزہ کی جانب صرف ایک امداد قافلے کو روانگی کی اجازت دی جبکہ امدادی اداروں کی جانب سے ایسی 54 درخواستیں دی گئی تھیں۔ مزید چار قافلوں کی روانگی میں بھی رکاوٹیں عائد کی گئیں لیکن بالآخر وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔

شمالی غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کی 85 فیصد کارروائیوں کے لیے یا تو اسرائیلی حکام سے اجازت نہیں مل سکی یا انہیں سلامتی کے خدشات اور انتظامی مسائل کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ اکتوبر کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران غزہ بھر میں 286 امدادی کارروائیوں میں سے ایک تہائی ہی انجام پا سکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی امدادی مشن میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے تو ضرورت مند لوگوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ

انہوں نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں پولیو مہم کے دوسرے مرحلے میں اب تک 157,000 بچوں کو اس بیماری کے خلاف ویکسین پلائی جا چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہم میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کا اہم کردار رہا ہے جس کی ٹیموں نے مہم کے پہلے روز 43 فیصد بچوں کو ویکسین مہیا کی۔

انڈر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ متحارب فریقین کو چاہیے کہ وہ جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفہ کریں تاکہ شمالی علاقے سمیت غزہ بھر میں ہر بچے کو پولیو ویکسین دی جا سکے۔