انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یونیسف کا ’چھپے قاتل‘ سے بچاؤ کے لیے شفائی غذاء کی اہمیت پر زور

غزہ کے ایک ہسپتال میں غذائیت کی کمی کا شکار ایک زیر علاج بچہ۔
© WHO
غزہ کے ایک ہسپتال میں غذائیت کی کمی کا شکار ایک زیر علاج بچہ۔

یونیسف کا ’چھپے قاتل‘ سے بچاؤ کے لیے شفائی غذاء کی اہمیت پر زور

صحت

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ غذائیت والی مخصوص خوراک (آر یو ٹی ایف) کی کمی کے باعث دنیا میں 10 لاکھ بچے شدید جسمانی کمزوری کا شکار اور موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

جنگوں، معاشی دھچکوں اور موسمیاتی بحران کی وجہ سے کئی ممالک میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی بڑی تعداد 'شدید درجے کی جسمانی کمزوری' کا شکار ہے۔

Tweet URL

یہ غذائی قلت کی بلند ترین سطح ہے اور غذائیت بھری محفوظ خوراک سے محروم اور اسہال، خسرے اور ملیریا جیسی بیماریوں کا متواتر نشانہ بننے والے بچے اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

بچوں کا خاموش قاتل

یونیسف کا کہنا ہے کہ شدید جسمانی کمزوری کا شکار بچے دبلے ہوتے جاتے ہیں اور ان کا مدافعتی نظام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس طرح ان کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے اور بالآخر وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

'آر یو ٹی ایف' خشک دودھ، مونگ پھلی، مکھن، مچھلی کے تیل، چینی اور کئی طرح کے وٹامن اور نمکیات کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں لاکھوں بچوں میں شدید غذائی قلت سے پیدا ہونے والے جسمانی مسائل پر قابو پایا جا چکا ہے۔

یونیسف میں بچوں کی غذائیت اور بڑھوتری کے شعبے کے ڈائریکٹر وکٹر آگوایو نے کہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران بچوں میں جسمانی کمزوری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر قابو پانے کے لیے غذائیت کے پروگراموں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں جنگوں، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی مسائل سے دوچار ممالک میں بھی حوصلہ افزا صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ اس خاموش قاتل پر قابو پانے اور تقریباً 20 لاکھ بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

'آر یو ٹی ایف' کی قلت

یونیسف نے کہا ہے کہ 'آر یو ٹی ایف' کی قلت کے باعث 12 غریب ترین ممالک میں بچوں کو اس غذائیت سے محرومی کا خدشہ ہے۔ افریقی ملک مالی، نائجیریا، نیجر اور چاڈ میں اس کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے یا ختم ہونے کو ہے جبکہ کیمرون، پاکستان، سوڈان، مڈغاسکر، جنوبی سوڈان، کینیا، جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں اس خوراک کا ذخیرہ آئندہ سال کے وسط تک ختم ہو سکتا ہے۔

افریقہ کے ساہل خطے میں طویل خشک سالی، سیلاب اور بہت کم یا شدید بارشوں کے باعث صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ بگڑ چکی ہے۔ ان قدرتی آفات کے نتیجے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور اس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کا نتیجہ بچوں میں جسمانی کمزوری کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔

رواں سال مالی میں پانچ سال سے کم عمر کے 300,000 سے زیادہ بچوں کے شدید جسمانی کمزوری کا شکار ہونے کا خدشہ ہے جہاں جولائی کے آخر تک غذائیت کے پروگراموں کو 'آر یو ٹی ایف' کی قلت کا سامنا تھا۔

چاڈ کی حکومت نے فروری میں خوراک اور غذائیت کے حوالے سے ہنگامی حالات کے نفاز کا اعلان کیا تھا جہاں پانچ سال سے کم عمر کے 500,000 سے زیادہ بچوں کو امسال شدید جسمانی کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ملک کے ایسے صوبوں میں حالات زیادہ خراب ہیں جہاں بڑی تعداد میں پناہ گزین آباد ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں غذائیت کی شدید کمی کے شکار ایک بچے کو چمچ سے شفائی غذا دی جا رہی ہے۔
© UNICEF/Giacomo Pirozzi
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں غذائیت کی شدید کمی کے شکار ایک بچے کو چمچ سے شفائی غذا دی جا رہی ہے۔

'تاخیر کی گنجائش نہیں'

یونیسف کو جسمانی کمزوری کے باعث موت کے خطرے سے دوچار بیس لاکھ بچوں کا علاج کرنے کے لیے 165 ملین ڈالر درکار ہیں۔ ادارے نے اس مقصد کے لیے 'تاخیر کی گنجائش نہیں' کے نام سے 2022 میں ایک اقدام شروع کیا تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں خوراک اور غذائیت کے بحران پر قابو پانا تھا۔

اس کے بعد ادارے نے غذائیت کے پروگراموں میں اضافہ کرنے اور جسمانی کمزور کا سامنا کرنے والے بچوں کو علاج مہیا کرنے کے لیے 900 ملین ڈالر جمع کیے۔ اس طرح 21.5 ملین بچوں اور خواتین کو ضروری خدمات میسر آئیں جبکہ 46 ملین بچوں کو غذائی قلت کی بروقت تشخیص سے متعلق خدمات تک رسائی ملی۔ اس کے علاوہ 5.6 ملین بچوں کو ان کی زندگی بچانے کے لیے ضروری علاج معالجہ بھی مہیا کیا گیا۔   

رواں سال اس اقدام کو مالی وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ یونیسف نے بچوں کے لیے ضروری غذائی اجزا کی مقامی سطح پر تیاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ ہر جگہ اس مسئلے کو شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکے۔

بچوں کے لیے غذائیت فنڈ

یونیسف نے بچوں میں طویل مدتی غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے گزشتہ سال 'بچوں کا غذائیت فنڈ (سی این ایف) قائم کیا تھا جس میں اسے یونائیٹڈ کنگڈم فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور چلڈرن انویسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن کی مدد بھی حاصل رہی۔

اس مسئلے سے بری طرح متاثرہ ممالک میں مقامی اور علاقائی سطح پر بچوں کے لیے مقوی خوراک، غذائی سپلیمنٹ اور 'آر یو ٹی ایف' کی تیاری میں مدد دینا بھی 'سی این ایف' کے مقاصد  میں شامل ہے۔ اس طرح غذائی اجزا کی تجارتی ترسیل میں آنے والے خلل سے بچنے، اشیا کی ترسیل سے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو دور کرنے اور مواقع و معاشی ترقی میں اضافہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

یونیسف نے کہا ہے کہ مکمل عملدرآمد کے بعد 'سی این ایف' سے ممالک کو غذائیت والی خوراک کی دستیابی یقینی بنانے، مالی وسائل کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل کو دور کرنے اور ہر جگہ 'آر یو ٹی ایف' کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔