انسانی کہانیاں عالمی تناظر

علاقائی کشیدگی کے باوجود یمن میں امن ممکن، یو این نمائندہ خصوصی

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کر رہے ہیں۔

علاقائی کشیدگی کے باوجود یمن میں امن ممکن، یو این نمائندہ خصوصی

امن اور سلامتی

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی یمن کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے جہاں تمام تر مشکلات کے باوجود امن کا قیام اب بھی ممکن ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں خونریزی روکنے اور اشد ضروری امن کو یقینی بنانے کے لیے ادارے کو متحدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے علاقائی سطح پر جنگ اور تناؤ کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہے۔

Tweet URL

گرنڈبرگ نے اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے عملے کی حوثی باغیوں کے ہاتھوں حراست کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ ملک میں ادارے کے اہلکاروں کا تحفظ خطرے سے دوچار ہے۔ زیرحراست تمام افراد کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے۔

حوثیوں نے مجموعی طور پر ان اداروں کے 50 سے زیادہ اہلکاروں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ ان میں چار خواتین سمیت اقوام متحدہ کے عملے کے 17 ارکان بھی شامل ہیں جبکہ ایک خاتون کا تعلق نمائندہ خصوصی کی ٹیم سے ہے۔

حملے اور جوابی حملے

ہینز گرنڈبرگ نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ یمن اور وہاں رہنے والے لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے اثرات کو محسوس کر رہے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں اور اسرائیل کے خلاف راکٹ اور ڈرون داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یمن کے مختلف علاقوں میں اور اسرائیل نے حدیدہ کی بندرگاہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔

نمائندہ خصوصی نے کہا کہ حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ یمن کو بھی علاقائی تنازع میں دھکیل رہا ہے جس سے ملک میں امن و استحکام کی امیدیں ماند پڑنے لگی ہیں۔ علاوہ ازیں، مشرقی وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کے باعث ملک کے داخلی بحران سے نمٹنے کی ہنگامی ضرورت سے توجہ بھی ہٹ رہی ہے۔

سیاسی عمل کو خطرہ

انہوں نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ نو سال سے جنگ کا سامنا کرنے والے یمن کے لوگ امن چاہتے ہیں اور اس وقت انہیں بامعنی سیاسی عمل اور قیام امن کی کوششیں خطرے میں دکھائی دے رہی ہیں۔ خاص طور پر حوثی باغیوں کے زیرانتظام علاقوں میں لوگوں کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے، انہیں قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان پر جبر ڈھایا جا رہا ہے۔

نمائندہ خصوصی نے یہ بھی بتایا کہ ستمبر میں کونسل کو اپنی بریفنگ کے بعد انہوں نے نیویارک، تہران اور ماسکو کے دوروں میں ان کی اس تنازع کے یمنی اور دیگر فریقین سے مفید بات چیت کی ہے۔

'امن ممکن ہے'

ہینز گرنڈبرگ نے کہا کہ یمن کے تنازع کا پرامن حل ہی مستقبل کی جانب بہترین قابل عمل راہ ہے اور اہم بات یہ کہ امن کا حصول ناممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، یمن کے لوگوں کو پائیدار اور متحدہ عالمی مدد بھی درکار ہے اور دنیا کو ملک میں قیام امن کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔

اس مقصد کے لیے درکار ذرائع پہلے ہی موجود ہیں اور تنازع کے فریقین نے ملک بھر میں جنگ بندی، انسانی و معاشی ضروریات کو پورا کرنے اور مشمولہ سیاسی عمل شروع کرنے کے لیے لائحہ عمل تشکیل دینے کے وعدے کر رکھے ہیں۔

معاشی مسائل پر تعاون

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ متحارب فریقین کے مابین اکا دکا جھڑپوں کے علاوہ ملک میں بڑی جنگ نہیں ہو رہی۔ تاہم اس صورتحال کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ فریقین کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ معاشی مسائل پر تعاون ہی ملک میں معاشی ترقی و استحکام کے حصول کی واحد راہ ہے۔

نمائندہ خصوصی نے کہا کہ ان کا دفتر یمن میں امن یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کر رہا ہے تاہم تنازع کے فریقین کو بامعنی اقدامات اور خاص طور پر ناجائز طور پر گرفتار کیے گئے تمام افراد کی رہائی کے ذریعے اس معاملے میں اپنے عزم کو ظاہر کرنا ہو گا۔

وسیع تر علاقائی کشیدگی کے باوجود یمن میں امن کا حصول اب بھی ممکن ہے اور سلامتی کونسل سمیت تمام ممالک کو اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے پر توجہ رکھنا ہو گی۔