انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن: یو این اور شراکت داروں کا اپنے زیر حراست اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ

یمن کے شہر تعز کا  علاقہ الجمالیہ طویل خانہ جنگی میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔
© WFP/Mohammed Awadh
یمن کے شہر تعز کا علاقہ الجمالیہ طویل خانہ جنگی میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

یمن: یو این اور شراکت داروں کا اپنے زیر حراست اہلکاروں کی رہائی کا مطالبہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کے سربراہوں نے یمن میں حوثیوں کے زیرحراست اپنے عملے کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں بعض اہلکاروں پر مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

یمن کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے، یو این ڈی پی، یونیسکو، یونیسف، او ایچ سی ایچ آر، ڈبلیو ایف پی، ڈبلیو ایچ او اور غیرسرکاری ادارے آکسفیم، سیو دی چلڈرن ار کیئر کے سربراہوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ جب ان لوگوں کو رہا کیے جانے کی امید تھی تو اس وقت ان پر مقدمات چلائے جانے کی خبر انتہائی پریشان کن ہے۔ یہ صورتحال ناقابل قبول ہے اور زیرحراست اہلکاروں کے خلاف 'قانونی کارروائی' کے نتیجے میں ان کی قید تنہائی مزید بڑھ جائے گی جو پہلے ہی طویل عرصہ سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

اہلکاروں کے خلاف مقدمات چلائے جانے سے ان کی اور ان کے خاندان کی سلامتی کے بارے میں بھی سنگین خدشات نے جنم لیا ہے۔

طویل حراست

یاد رہے کہ دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے عملے کے چھ ارکان (پانچ مرد اور ایک خاتون) کو حوثی حکام نے جون میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ساتھ اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے سات اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان کے علاوہ 'او ایچ سی ایچ آر' کے عملے کے مزید دو ارکان اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے دو اہلکاروں کو بالترتیب 2021 اور 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا جو تاحال قید کاٹ رہے ہیں۔

ان کے علاوہ بین الاقوامی اور قومی این جی اوز، سول سوسائٹی کے اداروں اور سفارت خانوں کے درجنوں لوگ بھی حوثیوں کے زیرانتظام علاقوں میں ناجائز قید کاٹ رہے ہیں۔

تحفظ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی این جی اوز کے سربراہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے ان کی یمن کے لاکھوں لوگوں کو ضروری انسانی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت مزید متاثر ہو گی۔ ملک میں امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے، انہیں ناجائز قید میں ڈالنے، دھمکانے، ان سے بدسلوکی اور ان پر ناجائز الزامات عائد کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور تمام گرفتار لوگوں کو فوری رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی این جی اوز اور ان کے شراکت دار گرفتار افراد کی فوری رہائی کے لیے متعدد حکومتوں سے مدد لینے سمیت ہرممکن ذرائع کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

سنگین انسانی بحران

یمن کو نہایت مشکل انسانی بحران درپیش ہے۔ سالہا سال کی خانہ جنگی کے نتیجے میں ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو بین الاقوامی انسانی امداد اور تحفظ درکار ہے۔

اندازے کے مطابق، ایک کروڑ 76 لاکھ لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 24 لاکھ بچے اور 12 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں بھی شامل ہیں جو شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

ہیضے سمیت متعدد مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ، صحت، پانی اور صفائی کی سہولیات کے فقدان اور تواتر سے آنے والی قدرتی آفات نے اس بحران کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔