انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان: گوتیرش کی یو این امن کاروں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

لبنان اسرائیل عارضی سرحد پر تعینات یونیفیل اہلکار (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Pasqual Gorriz
لبنان اسرائیل عارضی سرحد پر تعینات یونیفیل اہلکار (فائل فوٹو)۔

لبنان: گوتیرش کی یو این امن کاروں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے لبنان میں اقوام متحدہ کے امن کاروں پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایسی کارروائیوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جمہوریہ لاؤ کے دارالحکومت وینتیان میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام متحارب فریقین امن کاروں کو تحفظ دینے کے پابند ہیں۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے لبنان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور کشیدگی پر بھی سنگین تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پر اسرائیل کے فضائی حملوں، شدید بمباری اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملوں میں بڑے پیمانے پر شہریوں کا جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اس تنازع کو لبنان میں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہونے سے ہر صورت روکنا ہو گا۔

گزشتہ دنوں لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفیل) کی چیک پوسٹوں پر اسرائیلی فوج کے متعدد حملوں میں چار امن اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 10 غیرمنتخب ارکان اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

سلامتی کونسل کی تشویش

سلامتی کونسل کے 10 منتخب ارکان نے 10 اور 11 اکتوبر کو یونیفیل کی چیک پوسٹوں پر حملوں کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے متحارب فریقین سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور یونیفیل کے اہلکاروں اور تنصیبات کا تحفظ اور سلامتی یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کاروں پر کوئی بھی دانستہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 (2006) کی خلاف ورزی ہو گا اور ایسے حملے فوری روکے جائیں۔

ارکان نے یونیفل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی استحکام کے لیے اس کے مددگار کردار کو واضح کیا ہے۔

انہوں نے لبنان میں شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے، ان کی تکالیف، شہری تنصیبات کی تباہی اور بڑی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہو جانے پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

الجزائر، ایکواڈور، گیانا، جاپان، مالٹا، موزمبیق، جنوبی کوریا، سری لیون، سلوینیا، اور سوئٹزرلینڈ سلامتی کونسل کے دس منتخب اور غیر مستقل ارکان ہیں۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان امریکہ، روس، چین، فرانس، اور برطانیہ ہیں۔

ارکان نے فوری جنگ بندی، بین الاقوامی قانون پر سختی سے عملدرآمد اور قرارداد 1701 کے مکمل احترام پر زور دیا ہے۔

امن کی اپیل

لبنان کے دارالحکومت بیروت اور ملک کےجنوبی علاقوں پر اسرائیل کی شدید بمباری بدستور جاری ہے۔ اس کے ساتھ حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے جاری کشیدگی کے دوران لبنان میں دو ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہےکہ لبنان، غزہ، اسرائیل اور شام میں عام شہریوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے صاحبان اختیار سے اپیل کی ہےکہ وہ موت، تباہی اور جارحانہ سرگرمیوں کو روکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس پر حملوں سے امن کاروں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ یہ اہلکار سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 (2006) کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

طبی سہولیات پر حملے

ہائی کمشنر کے دفتر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت کے گنجان آباد علاقوں پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں میں طبی مراکز اور عملے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ علاوہ ازیں، آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ان کا عملہ بھی حملوں کی زد میں آیا ہے۔

لبنان کے طبی حکام نے بتایا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 5 اکتوبر کے بعد 95 بنیادی مراکز صحت بند ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 30 ستمبر تک طبی مراکز پر اسرائیل کے نو مصدقہ حملوں میں 49 طبی کارکنوں کی ہلاکت ہو چکی تھی۔

شمداسانی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ سے منسلک تنصیبات کو تحفظ مہیا کرنا اور انہیں حملوں سے بچانا تمام متحارب فریقین کی ذمہ داری ہے۔