انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار: ہمسایہ ممالک قیام امن کی کوششوں میں مدد کریں، گوتیرش

میانمار کی ریاست راخائن میں مقامی لوگ سمندری طوفان سے ہونے والی تباہ کاری کا اندازہ لگا رہے ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Naing Linn Soe
میانمار کی ریاست راخائن میں مقامی لوگ سمندری طوفان سے ہونے والی تباہ کاری کا اندازہ لگا رہے ہیں (فائل فوٹو)۔

میانمار: ہمسایہ ممالک قیام امن کی کوششوں میں مدد کریں، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہےکہ میانمار میں قیام امن کے لیے اس کے ہمسایہ ممالک اپنا اثرورسوخ استعمال کریں جہاں طویل کشیدگی کے باعث لاکھوں لوگوں کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ اپیل ایسے موقع پر کی ہے جب امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر شمال، جنوب مشرق اور ریاست راخائن میں لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ مہینوں میں آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ان کے حالات اور بھی مشکل ہو گئے ہیں۔

Tweet URL

جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ میانمار میں انسانی حالات بگڑ رہے ہیں۔ خانہ جنگی کے باعث لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ملک کی ایک تہائی آبادی کو زندہ رہنے کے لیے مدد درکار ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری جنرل نے ملک میں قیام امن کے طریقوں پر کام کے لیے میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور آسیان کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد دینے کا عزم بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسیان کے پانچ نکاتی سمجھوتے پر موثر عملدرآمد میانمار میں قیام امن کا ضامن ہے۔

آسیان کے رکن ممالک کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے میں تشدد کا فوری خاتمہ کرنے، میانمار میں تنازع کے تمام فریقین کےمابین بات چیت اور ملک میں انسانی امداد میں اضافہ کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

سیلاب، بے گھری اور بھوک

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ میانمار میں 30 لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ ملک میں فوج اور اس کی مخالف ملیشیاؤں کے مابین مسلح کشیدگی میں اضافے کے بعد شروع ہوا۔

اوائل ستمبر سے اب تک ملک میں مون سون کی شدید بارشوں اور سمندری طوفان یاگی کے بعد مزید 10 لاکھ لوگوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ سیلاب میں کم از کم 360 لوگوں کی ہلاکت ہو چکی ہے اور مزید بہت بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

سیلاب سے فصلوں اور مویشیوں کو ہونے والے نقصان کےبعد ملک میں بڑھتی ہوئی بھوک پر بھی شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ 'اوچا' کے مطابق، اس قدرتی آفت نے غیرمحفوظ آبادیوں کے روزگار ختم کر دیے ہیں۔ مقامی سطح پر رضاکار سیلاب کے بعد علاقوں کی صفائی میں مصروف ہیں لیکن متواتر بارشوں اور چڑھے دریاؤں کے باعث مزید سیلاب آنے کا اندیشہ ہے۔

امدادی اقدامات

فی الوقت ریاست راخائن، جنوب مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو امدادی خوراک پہنچائی گئی ہے۔ امدادی اداروں نے جنوب مشرقی میانمار میں مزید 73 ہزار لوگوں تک رسائی کی منصوبہ بندی بھی کی ہے۔ شمال مغرب میں 80 ہزار سے زیادہ لوگوں نے امداد کے طور پر پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کا سامان وصول کیا ہے جبکہ انہیں پناہ کا سامان اور دیگر غیرغذائی مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ادارے کا کہنا ہےکہ میانمار میں امدادی کارکنوں کو درپیش مسائل کے باوجود سال کی پہلی ششماہی میں 53 لاکھ ضرورت مند لوگوں میں سے 40 فیصد کو کسی نہ کسی شکل میں مدد پہنچائی گئی ہے۔

'اوچا' نے کہا ہے کہ اس مدد کی فراہمی میں اس کے قومی اور مقامی شراکت داروں نے اہم کردار ادا کیا ہے جو مقامی سطح پر لوگوں کے ساتھ مل کر انہیں ضروری تحفظ مہیا کر رہے ہیں۔ اگر مزید مالی وسائل میسر آئیں تو متاثرین کو دی جانے والی امداد میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ رواں سال اقوام متحدہ نے میانمار کے لیے ایک ارب ڈالر کے امدادی وسائل کی اپیل کی تھی جس میں سے اب تک 30 فیصد سے بھی کم مہیا ہو سکے ہیں۔