انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نوبیل امن انعام ملنے پر جاپانی تنظیم کو گوتیرش کی مبارکباد

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے افراد جنہیں ہیباکوشا کہا جاتا ہے سے ملاقات کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔
UN Photos/Ichiro Mae
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے افراد جنہیں ہیباکوشا کہا جاتا ہے سے ملاقات کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔

نوبیل امن انعام ملنے پر جاپانی تنظیم کو گوتیرش کی مبارکباد

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی جاپان کی تنظیم نیہون ہیڈانکیو کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

1945 میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم کے حملے میں بچ جانے والے افراد کی قائم کردہ یہ تنظیم عام لوگوں کو ایٹمی ہتھیاروں سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کرتی اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ اس تنظیم سے وابستہ لوگوں کو ہیباکوشا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنا ان کا مقصد ہے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے ہیباکوشا کو ایٹمی اسلحے سے ہونے والے ہولناک انسانی نقصان کے بارے میں کھل کر بات کرنے والے بے لوث گواہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، اگرچہ عمر رسیدہ ہونے کے باعث سال بہ سال ان لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے تاہم، ان کے انتھک کام اور مضبوطی کو ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق عالمی مہم میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا ہےکہ وہ گزشتہ برسوں میں ہیباکوشا کے ساتھ اپنی بہت سے ملاقاتوں کو کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔

ایٹمی تباہی کے عینی شاہد

مبارکباد کے پیغام میں انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اس حقیقت کے جیتے جاگتے گواہ ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لاحق خطرات محض تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں۔ یہ ہتھیار انسانیت کے لیے واضح اور موجود خطرہ ہیں اور آج بین الاقوامی کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر ان کے استعمال کا تذکرہ ہونے لگا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ عالمی رہنما ہیباکوشا کی طرح صورتحال کو اچھی طرح سمجھیں اور جان لیں کہ ایٹمی ہتھیار موت کے ایسے ذرائع ہیں جو تحفظ اور سلامتی مہیا نہیں کرتے۔ دنیا سے ایسے تمام ہتھیاروں کا بیک وقت خاتمہ کرنا ہی اس خطرے کا قلع قمع کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ فخریہ طور سے ہیباکوشا کے ساتھ کھڑا ہے جو ایٹمی اسلحے سے پاک دنیا کی تعمیر کے مقصد سے کی جانے والی مشترکہ کوششوں کے لیے باعث تحریک ہیں۔

موت کے آلات

اگست 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ وہ واحد موقع تھا جب یہ ہتھیار استعمال ہوئے۔ اس حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایٹمی و تھرمل تابکاری اور دھماکوں کی لہر سے دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ ان کے علاوہ مزید ہزاروں متاثرین آئندہ برسوں کے دوران موت کے منہ میں چلے گئے۔

ایٹمی ہتھیاروں میں کمی لانا اور بالآخر ان کا خاتمہ کرنا اقوام متحدہ کی ترجیح رہی ہے۔ جنوری 1946 میں منظور کی گئی جنرل اسمبلی کی پہلی قرارداد میں بھی ایٹمی توانائی کی دریافت سے جنم لینے والے مسائل سے نمٹنے کی بات کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اپنی حالیہ تقریر میں کہہ چکے ہی کہ دنیا میں موت کے ان آلات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

اقوام متحدہ اور ہیباکوشا

اقوام متحدہ کے ہیباکوشا کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ادارے کے کئی سیکرٹری جنرل ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم گرائے جانے کی المناک یاد میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کر چکے ہیں۔

موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے 2022 میں ہیروشیما کی یادگار پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی تھی جہاں انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں پہلے ہی 13 ہزار ایٹمی بم موجود ہیں جبکہ عالمی سطح پر اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

2022 میں ہی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہیباکوشا کے کام پر ایک نمائش کا انعقاد بھی کیا گیا۔