انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: ’انرا‘ مخالف اسرائیلی قانون سازی خطرناک رحجان، لازارینی

فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے انرا کے سربراہ فلپ لازارینی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے انرا کے سربراہ فلپ لازارینی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل: ’انرا‘ مخالف اسرائیلی قانون سازی خطرناک رحجان، لازارینی

امن اور سلامتی

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (انرا) کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کردہ قوانین امدادی کارروائیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔

'انرا' کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ میں ان کے ادارے پر پابندی کے لیے قوانین پیش کیے جانا نہایت خطرناک رحجان ہے۔ اس سے دنیا بھر میں انسانی امداد کی فراہمی کے عمل کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان قوانین کا مقصد 'انرا' کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ واپس لینا ہے۔

رواں مہینے سلامتی کونسل کی صدارت سوئزرلینڈ کے پاس ہے جس کے نمائندے نے اجلاس کا آغاز کیا۔ اس موقع پر ادارے کے 15 ارکان کے علاوہ فلسطین، اسرائیل، موریطانیہ اور ترکیہ کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔

امن و سلامتی پر سمجھوتہ

کمشنر جنرل نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 'انرا' پر پابندی عائد کی تو دنیا کے دیگر حصوں میں بھی امدادی کارروائیوں پر قدغن عائد ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ان مجوزہ قوانین کو روکنے میں ناکامی سے ہر جگہ امدادی سرگرمیوں اور انسانی حقوق سے متعلق صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

فلپ لازارینی نے کہا کہ سلامتی کونسل کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ ایسے اقدامات کو کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے جن سے کثیرفریقی نظام اور عالمی امن و سلامتی کی بنیادوں کو خطرہ لاحق ہے۔ قوانین اور اصولوں کی پروا کیے بغیر کوئی بھی قدم اٹھانے کی اس سوچ کے خلاف فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر یہ بات قبول کر لینی چاہیے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قوانین کی بنیاد پر قائم کردہ نظام اب ختم ہونے کو ہے۔

ملبے کا سمندر

لازارینی نے کہا کہ ایک سال سے مسلط شدید تباہی اور تکالیف کے بعد اب غزہ ناقابل شناخت ہو چکا ہے۔ علاقے میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

غزہ کی پرانی گلیوں اور سڑکوں پر ملبے کا سمندر اور وہاں کی تقریباً تمام آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ شمالی علاقوں میں اسرائیلی فوج کے جارحانہ اقدامات حاص طور پر تشویشناک ہیں جہاں شہریوں کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ جنوبی غزہ کے لوگ ناقابل برداشت حالات میں جی رہے ہیں جہاں قحط کا خطرہ ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔

موجودہ حالات میں بچوں کی تعلیم کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ایک پوری نسل کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے اور نفرت و انتہاپسندی کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں 'انرا' نے غزہ میں تعلیمی پروگرام دوبارہ شروع کیا ہے جبکہ اس کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

تباہی اور نقل مکانی

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) میں شعبہ مالیات و شراکت کی ڈائریکٹر لیزا ڈوٹن نے کہا کہ گزشتہ سال غزہ کے لوگوں نے ناقابل تصور مصائب کا سامنا کیا۔ حالیہ تاریخ میں اس قدر بڑے پیمانے پر تباہی اور تکالیف کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد غزہ کے لوگ متواتر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ لوگوں کو کسی جگہ سے انخلا کے لیے کہنے کا مقصد ان کا تحفظ یقینی بنانا ہوتا ہے لیکن غزہ میں ان کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

علاقے میں ضروری اشیا کی ترسیل پر کڑی پابندیاں ہیں اور اسرائیل کی سرحدی چوکیوں پر سختی کے باعث انسانی امداد کی فراہمی کے راستوں پر نقل و حرکت بہت مشکل ہو گئی ہے۔

بھوک اور صدمات کا شکار لوگ ننگے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر اپنے عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ جنگ اور تشدد بند کرانے میں عالمی برادری کی ناکامی کے باعث ان کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور ان بدترین حالات میں وہ امدادی کارکنوں پر اپنا غصہ اتار رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کی مکمل کارروائی دیکھیے