انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا کا ہر ساتواں کم عمر فرد کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار، ڈبلیو ایچ او

دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو ذہنی صحت کی خدمات تک خاطر خواہ رسائی نہیں ہے۔
© UNICEF/Aleksey Filippov
دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو ذہنی صحت کی خدمات تک خاطر خواہ رسائی نہیں ہے۔

دنیا کا ہر ساتواں کم عمر فرد کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں 10 تا 19 سال عمر کا ہر سات میں سے ایک بچہ ذہنی مسائل کا شکار ہے جن میں اعصابی خلل، ذہنی دباؤ اور اختلال نمایاں ہیں۔

ان بچوں میں ایک تہائی ذہنی مسائل 14 سال کی عمر سے پہلے اور نصف مسائل 18 سال کی عمر سے قبل ظاہر ہوتے ہیں۔

10 اکتوبر کو منائے جانے والے ذہنی صحت کے عالمی دن سے قبل شائع ہونے والی دونوں اداروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں اور نوعمر افراد کو فراہم کی جانے والی ذہنی صحت کی خدمات میں بہتری کے لیے تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کو اس معاملے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔

Tweet URL

رپورٹ کے مطابق، بچوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح کام لینے کا موقع دینے کی خاطر اس تبدیلی کے لیے بروقت اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔

ذہنی صحت کی خدمات تک عدم رسائی

اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ذہنی صحت کی خدمات کے معاملے میں سرکاری سطح پر وسائل اور افرادی قوت کی فراہمی سے متعلق صورتحال اچھی نہیں ہے لیکن کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں یہ مسئلہ کہیں زیادہ نمایاں ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں بچوں کو ذہنی صحت کی خدمات تک خاطر خواہ رسائی نہیں ہے۔ ذہنی صحت سے متعلق تشویشناک علامات کا سامنا کرنے والے بیشتر بچوں کو طبی خدمات کی عدم دستیابی، مہنگے علاج اور ایسے امراض سے جڑی بدنامی کے باعث طبی مدد نہیں مل پاتی۔

'ڈبلیو ایچ او' میں ذہنی و دماغی صحت اور منشیات کے استعمال کی روک تھام کے شعبے کی ڈائریکٹر ڈیوورا کیسل نے کہا ہے کہ تمام بچوں کو ان کی عمر کے اعتبار سے آزمائے ہوئے کامیاب علاج کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔اپنے حالات سے قطع نظر، ہر ملک بچوں، نوعمر افراد اور ان کے خاندانوں کی ذہنی صحت میں نمایاں بہتری لانے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتا ہے۔

اجتماعی کوششوں کی ضرورت

یونیسف میں شعبہ صحت کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر فوزیہ شفیق نے کہا ہے کہ بچوں، نوعمر افراد اور ان کے خاندانوں کی ذہنی صحت اور بہبود کو ایک دوسرے سے الگ رکھ کر بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ اس معاملے میں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور مقامی سطح پر مددگار اقدامات کو یکجا کر کے بچوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کا جامع نیٹ ورک بنانا ہو گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں اور نوعمر افراد کو ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرنا ایک اجتماعی کوشش ہونی چاہیے۔ اگرچہ اس حوالے سے کسی ایک طریقے کو بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم رپورٹ میں دنیا بھر سے ایسی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی طرح کے حالات میں اس مقصد کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خاندانی اور معاشرتی ذمہ داری

رپورٹ میں دنیا بھر کے ایسے لاکھوں بچوں کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے جو ذہنی مسائل کا شکار ہونے کے باعث اپنے خاندانوں کی موجودگی کے باوجود الگ تھلگ کر دیے جاتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کے انسانی حقوق کی پامالی ہے اور طبی و سماجی حوالے سے اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذہنی مسائل میں مبتلا بچوں اور نوعمر افراد کو ان کے خاندانوں اور معاشروں میں ہی رکھ کر ان کی پرورش کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ان کی تعلیم، سماجی تعلقات اور مجموعی ترقی و بہبود کو بھی جاری رہنا چاہیے۔

فوزیہ شفیق کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت کو ان کی مجموعی بہتری کے تناطر میں ترجیح دینا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔