انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سابق برطانوی سفارتکار ٹام فلیچر یو این امدادی ادارے ’اوچا‘ کے سربراہ مقرر

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ٹام فلیچر اوچا کے نئے سربراہ ہونگے۔
© Matt & Lena Photography
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ٹام فلیچر اوچا کے نئے سربراہ ہونگے۔

سابق برطانوی سفارتکار ٹام فلیچر یو این امدادی ادارے ’اوچا‘ کے سربراہ مقرر

اقوام متحدہ کے امور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ٹام فلیچر کو ہنگامی امدادی امور کے لیے ادارے کے رابطہ دفتر (اوچا) کا انڈر سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا ہے۔

ٹام فلیچر برطانیہ ہی سے تعلق رکھنے والے مارٹن گرفتھس کی جگہ لیں گے جن کی نمایاں اور پرخلوص خدمات اور ادارے کے ساتھ طویل وابستگی پر سیکرٹری جنرل نے ممنونیت کا اظہار کیا ہے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے امدادی امور کے لیے اپنی معاون جوئس ایمسویا کے لیے بھی ستائش کا اظہار کیا ہے جو ٹام فلیچر کے عہدہ سنبھالنے تک ادارے کی قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کام کرتی رہیں گی۔

ٹام فلیچر 2020 سے برطانیہ کے ہرٹفورڈ کالج آکسفورڈ میں ڈین اور 2022 سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے کالجوں کی کانفرنس کے نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے آئے ہیں۔ وہ اداروں کی قیادت اور ان میں تبدیلی لانے اور اعلیٰ ترین سطح پر سفارت کاروں کو فروغ دینے کا بھرپور تجربہ اپنے ساتھ لا رہے ہیں۔

قبل ازیں وہ 2015 سے 2019 تک عالمی کاروباری اتحاد برائے تعلیم کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں اور انہیں پناہ گزینوں کی تعلیم کے حوالے سے سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کے ساتھ کام کا موقع بھی ملا ہے۔

لبنان میں سفیر

علاوہ ازیں، وہ 2011 سے 2015 تک لبنان میں برطانیہ کے سفیر کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں۔

ترقی، سفارت کاری، ٹیکنالوجی اور جمہوریت پر اپنی کتابوں اور میڈیا میں کام کی وجہ سے انہیں اطلاعاتی شعبے میں نمایاں شہرت حاصل ہے۔ وہ ٹیکنوکریسی اور عوامی سفارت کاری کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں سفارتی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے کام کیا ہے۔

انہوں نے 1998 آکسفورڈ یونیورسٹی سے جدید تاریخ میں ماسٹرز اور 1997 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور 2015 تا 2020 نیویارک یونیورسٹٰی اور 2016 تا 2019 یو اے ای ڈپلومیٹک اکیڈمی میں وزیٹنگ پروفیسر بھی رہے ہیں۔

ٹام فلیچر انگریزی اور فرانسیسی زبانیں روانی سے بولتے ہیں اور عربی و سویلی زبانوں سے بھی معقول واقفیت رکھتے ہیں۔