انسانی کہانیاں عالمی تناظر
اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفیل کی ایک اہلکار جنوبی لبنان میں بلیو لائن پر گشت کر رہی ہیں۔

جانیے کہ یو این امن کاروں کا اسرائیل لبنان سرحد پر کیا کام ہے؟

© UNIFIL/Pasqual Gorriz
اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفیل کی ایک اہلکار جنوبی لبنان میں بلیو لائن پر گشت کر رہی ہیں۔

جانیے کہ یو این امن کاروں کا اسرائیل لبنان سرحد پر کیا کام ہے؟

امن اور سلامتی

لبنان میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا مشن (یونیفیل) 'بلیو لائن' پر کام کر رہا ہے جو 1970 کے بعد لبنان اور اسرائیل کی عارضی سرحد بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں اس مشن کی ذمہ داریوں میں ایک اور سال کے لیے توسیع کی ہے۔

جانیے کہ یونیفیل کیا ہے اور وہ حزب اللہ اور اسرائیل کی فوج کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں کیا کر رہا ہے:

مشن کا قیام اور ذمہ داریاں

یونیفیل کو سلامتی کونسل نے مارچ 1978 میں لبنان پر اسرائیل کے حملے کے بعد قائم کیا تھا۔ اسے لبنان سے اسرائیلی افواج کی واپسی کی تصدیق کرنے، دونوں ممالک کے درمیان امن و سلامتی کو بحال کرنے اور لبنان کی حکومت کو علاقے میں اپنا اختیار موثر طور سے دوبارہ قائم کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔

دونوں ممالک کے مابین متفقہ سرحد کی غیرموجودگی میں اقوام متحدہ نے ان کے درمیان 120 کلومیٹر طویل ایک خط کھینچا جسے 'بلیو لائن' کہا جاتا ہے۔ یونیفیل اس عارضی سرحد کی نگرانی کرتا ہے اور اس کے فوجی دستے علاقے میں گشت کرتے رہتے ہیں۔

یونیفیل کا ایک کارواں جنوبی لبنان میں بلیو لائن کے قریب سے گزر رہا ہے۔
© UNIFIL/Pasqual Gorriz
یونیفیل کا ایک کارواں جنوبی لبنان میں بلیو لائن کے قریب سے گزر رہا ہے۔

2006 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین ایک مہینے تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد سلامتی کونسل نے ایک اور قرارداد (1701) کے ذریعے اس مشن کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کیا۔ اس قرارداد کے ذریعے مشن کو دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے خاتمے کی نگرانی بھی سونپی گئی۔

اس قرارداد میں یونیفیل کے امن اہلکاروں کو جنوبی سرحد پر لبنان کی مسلح افواج کے ساتھ رہنے اور انہیں مدد مہیا کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

قرارداد 1701 کے بارے میں یو این نیوز کا وضاحتی مضمون یہاں دیکھیے۔

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد یونیفیل نے کیا کہا؟

6 اکتوبر 2024 کو یونیفیل نے خبردار کیا تھا کہ اسے لبنان کے علاقے 'سیکٹر ویسٹ' میں مشن کی جائے تعیناتی کے قریب اسرائیلی فوج کی حالیہ سرگرمیوں پر سخت تشویش ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، مشن دونوں ممالک کی سرحد کے آر پار شدید فائرنگ کے تبادلے پر متواتر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بلیو لائن کے قریب لبنان کے متعدد علاقوں میں فضائی حملے اور زمینی عسکری کارروائیاں کی ہیں۔ دوسری جانب اسی عرصہ میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر درجنوں راکٹ حملے کیے جن کا مقصد اسرائیل کی زمینی کارروائیوں کو روکنا اور سرحد پار اس کے شمالی علاقوں کو نشانہ بنانا تھا۔

یونیفیل نے کہا کہ یہ انتہائی خطرناک اقدام ہے۔ سلامتی کونسل کی تفویض کردہ ذمہ داریاں انجام دینے والے اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے تحفظ پر سمجھوتہ ناقابل قبول ہو گا۔

یونیفیل کی بحری ٹاسک فورس لبنانی پانیوں میں خدمات سرانجام دیتی ہے۔
© UNIFIL/Pasqual Gorriz

امن اہلکار کیا کرتے ہیں؟

یونیفیل کے امن اہلکار فریقین کے مابین نادانستہ کشیدگی اور کسی طرح کی غلط فہمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل اور لبنان کے مابین رابطے کے طریقہ کار سے کام لیا جاتا ہے۔

یہ اہلکار جنوبی لبنان میں گشت کرتے اور علاقے کی صورتحال کی غیرجانبدارانہ نگرانی کر کے قرارداد 1701 کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹ دیتے ہیں۔

امن اہلکار لبنان کی مسلح افواج کو تربیت فراہم کرنے کے علاوہ جنوبی لبنان میں اس کی فضائیہ کو مضبوط بنانے میں بھی تعاون کرتے ہیں تاکہ وہ سلامتی کے حوالے سے ان ذمہ داریوں کی انجام دہی کے قابل ہو سکے جو فی الوقت مشن کے ذمے ہیں۔

امن اہلکار اپنی جگہوں پر موجود رہ کر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تاہم سلامتی کی حالیہ صورتحال میں سرحدی گشت اور انصرامی اقدامات بہت مشکل ہو گئے ہیں۔

اگر ان اہلکاروں کے تحفظ کو کسی طرح کا کوئی خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنے ٹھکانوں یا پناہ گاہوں میں واپس جا سکتے ہیں۔

یونیفیل اقوام متحدہ کا پہلا امن مشن ہے جس کے پاس سمندری ٹاسک فورس بھی موجود ہے۔ یہ فورس لبنان کی بحری فوج کو ملک کی سمندری حدود کی نگرانی کرنے اور غیرقانونی ہتھیاروں اور متعلقہ اشیا کا ملک میں داخلہ روکنے میں مدد دیتی ہے۔

مشن کا کہنا ہے کہ 2006 میں اس فورس کی تعیناتی کے نتیجے میں اسرائیل نے لبنان کا سمندری محاصرہ ختم کر دیا تھا۔

یونیفیل اور لبنانی آرمی کے اہلکار بلیو لائن پر ڈیوٹی دیتے ہوئے (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Pasqual Gorriz
یونیفیل اور لبنانی آرمی کے اہلکار بلیو لائن پر ڈیوٹی دیتے ہوئے (فائل فوٹو)۔

یونیفیل امدادی اداروں کو لبنان کی شہری آبادی کے لیے انسانی امداد پہنچانے اور ایسے حالات میں لوگوں کو تحفظ مہیا کرنے کا کام بھی کرتا ہے جب حکومت کے لیے یہ سب کچھ کرنا ممکن نہیں رہتا۔

امن اہلکار لبنان کے لوگوں کو مختلف منصوبوں اور صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے و دیگر سہولیات کے لیے عطیات کے ذریعے بھی مدد مہیا کرتے ہیں۔

یونیفیل اعداد و شمار کی روشنی میں

اس وقت مشن میں تقریباً 11 ہزار اہلکار کام کر رہے ہیں جن میں 10 ہزار فوجی اہلکار ہیں۔ 250 غیرملکی اور 550 مقامی غیرفوجی اہلکار بھی مشن کا حصہ ہیں۔

مشن میں کام کرنے والے اہلکاروں کا تعلق 50 مختلف ممالک سے ہے۔ اس وقت مشن میں انڈونیشیا کے فوجی اہلکاروں کی تعداد سب سے زیادہ (1,200) ہے۔

بحری ٹاسک فورس کے پاس پانچ جہاز اور چھ ہیلی کاپٹر ہیں جو یونیفیل کے کام میں مدد دیتے ہیں۔

یونیفیل کا سالانہ بجٹ تقریباً نصف ارب ڈالر ہے۔