یوکرینی جنگی قیدیوں کے ساتھ روس کا ناروا سلوک قابل مذمت، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین پر اپنے حملے فوری بند کرے اور شہریوں کو تحفظ دینے کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے اور بین الاقوامی قانون کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2022 کے بعد رواں سال جولائی ملک میں مہلک ترین مہینہ تھا جب انسانی نقصان میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔
جون اور اگست کے درمیانی عرصہ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں اس سے پہلے تین مہینوں کے مقابلے میں 45 فیصد تک اضافہ ہوا۔ یہ ہلاکتیں میزائلوں، جنگی طیاروں اور ڈرون کے ذریعے کیے جانے والے حملوں اور یوکرین کے علاقے پر قبضے کے لیے روس کی زمینی عسکری کاررائیوں میں ہوئیں۔
جنگی قیدیوں پر تشدد
وولکر ترک کا کہنا تھا کہ قیدخانوں میں بھی انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا جاتا رہا ہے اور ایسے بہت سے واقعات حقوق کے غیرجانبدار ماہرین کی نظر میں نہیں آ سکے۔ انہوں نے جنگی قیدیوں بالخصوص یوکرین کے گرفتار ہونے والے فوجیوں سے بدسلوکی پر سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہائی کمشنر نے بتایا ہے کہ روس کی فوج یوکرین کے جنگی قیدیوں کو بڑے پیمانے پر منظم طریقے سے تشدد کا نشانہ بناتی چلی آئی ہے۔ یوکرین کے 174 جنگی قیدیوں نے رہائی کے بعد قید خانوں میں ان سے روا رکھنے جانے والے سلوک کا تفصیلی نقشہ کھینچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوران قید انہیں تواتر سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
سابق قیدیوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ بیشتر قید خانوں کے نگران بھی تشدد میں ملوث ہیں اور اس میں روس کے سرکاری سکیورٹی اداروں کا منظم ہاتھ ہوتا ہے۔ ان میں بہت سے قیدیوں نے جنسی تشدد کی اطلاع بھی دی ہے۔
انہوں نے روس کی عوامی شخصیات کی جانب سے یوکرینی جنگی قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک اور انہیں سزائے موت دیے جانے کے بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ روس کی فوج کے ارکان کو حاصل وسیع قانونی استثنیٰ کے باعث یہ تشدد بلا خوف و خطر جاری ہے۔
انہوں نے یوکرین سے بھی کہا ہے کہ وہ جنگی قیدیوں کے ساتھ قید کے ہر مرحلے میں بین الاقوامی قانون کے مطابق سلوک یقینی بنائے۔
قابل مذمت ہتھکنڈہ
وولکر ترک نے یوکرین میں توانائی کی اہم تنصیبات پر روس کے متواتر حملوں کو شہریوں کو نقصان پہنچانے کا مکروہ ہتھکنڈہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ، ہسپتالوں کو فعال رکھنے، حرارت کے حصول، پانی کی صفائی اور روزمرہ زندگی کے لیے بجلی کی فراہمی لازمی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے اس جنگ کے نتیجے میں ماحولیاتی نقصان کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ جوہری بجلی گھروں کے قریب لڑائی سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔
ہائی کمشنر نے روس سے کہا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے انسانی حقوق کے غیرجانبدار ماہرین کو مقبوضہ علاقوں تک رسائی دے اور یوکرین پر اپنا حملہ روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقائق کو سامنے لانے اور احتساب یقینی بنانے کے لیے یہ رسائی ضروری ہے۔