ایم پاکس کی فوری تشخیص کے پہلے طریقہ کار کی منظوری
عالمی ادارہ صحت نے ہنگامی حالات کے لیے ایم پاکس کے پہلے تشخیصی ٹیسٹ کی منظوری دے دی ہے جس کی بدولت اس بیماری کی وبا کا سامنا کرنے والے ممالک میں مرض کو تشخیص کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
'ایلینیٹی ایم، ایم پی ایس وی ایسے' کسی بھی موقع پر مریض میں ایم پاکس کی نشاندہی کرنے والا پہلا ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے جسم پر بنے چھالوں سے مواد لے کر اس میں ایم پاکس وائرس کا پتا چلایا جاتا ہے۔
یہ ٹیسٹ امریکہ سے تعلق رکھنے والی کمپنی ایبٹ مولیکیولر کارپوریشن نے تیار کیا ہے اور اسے کلینیکل لیبارٹری کے تربیت یافتہ اہلکار ہی استعمال کر سکتے ہیں۔
اہم سنگ میل
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں ادویات اور طبی سازوسامان تک رسائی کے شعبے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر یوکیکو ناکاتانی نے کہا ہے کہ ہنگامی حالات کے لیے تیار کیا جانے والا یہ پہلا ٹیسٹ مریضوں میں اس بیماری کا پتا چلانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے وہ ممالک خاص طور پر فائدہ اٹھائیں گے جہاں حالیہ دنوں ایم پاکس کی وبا زوروں پر ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ ایم پاکس کے مریضوں کو بروقت علاج معالجہ اور نگہداشت مہیا کرنے اور اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مرض کی بروقت تشخیص ضروری ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وبا سے متاثرہ ممالک کا تعلق براعظم افریقہ سے ہے جہاں اس کے ٹیسٹ کی صلاحیت بہت محدود ہے اور کسی فرد میں مرض کی تصدیق بہت دیر سے ہوتی ہے۔
رواں سال افریقہ میں ایم پاکس کے 30 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں جن کی سب سے بڑی تعداد جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی)، برونڈی اور نائجیریا میں ہے۔ کانگو میں ایم پاکس کے صرف 37 فیصد مشتبہ مریضوں کا ٹیسٹ ہوا ہے۔
عالمگیر صحت کے لیے خطرہ
رواں سال افریقہ اور بالخصوص کانگو میں اس وائرس کی دو اقسام بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بنی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کانگو میں اس کی نئی قسم 'ون بی' سامنے آنے کے بعد 14 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ایم پاکس ایک مرتبہ پھر عالمگیر صحت عامہ کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اس بیماری کو منکی پاکس کہا جاتا تھا۔ یہ وائرس سے پھیلنے والا مرض ہے جو زیادہ تر لوگوں کے باہمی رابطوں اور کبھی کبھار اس کے جرثوموں سے آلودہ چیزوں کو چھونے سے لاحق ہوتا ہے۔ جلد پر سرخ نشانات نمودار ہونا اس بیماری کی خاص علامت ہیں جس کے ساتھ یا کچھ دیر کے بعد مریض کو بخار، سر، پٹھوں اور کمر میں درد، کمزوری اور جسم کے مختلف حصوں میں موجود لمف نوڈ میں سوجن کی شکایت ہوتی ہے۔
قبل ازیں، اس مرض کی وبا 2022 میں بھی پھیلی تھی جس نے ابتداً وسطی و مغربی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیا اور بعدازاں دنیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے۔ اس موقع پر بھی 'ڈبلیو ایچ او' نے اس وبا کو عالمگیر صحت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
مرض کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش
'ڈبلیو ایچ او' نے اس بیماری کا پھیلاؤ روکنے اور لوگوں کی صحت و زندگی کو تحفظ دینے کے لیے ویکسین، ٹیسٹ اور علاج معالجے کی دستیابی کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔
28 اگست کو ادارے نے ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو ایم پاکس کا ہنگامی ٹیسٹ تیار کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ اس کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔ فی الوقت ادارے کو مزید تین ٹیسٹ جائزے کے لیے پیش کیے گئے ہیں اور اس حوالے سے دیگر کمپنیوں کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔