مسلح تنازعات کے دوران لاقانونیت اور بچوں کی سمگلنگ پر یو این رپورٹ
اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلح تنازعات اور ان کے درمیان عبوری وقفوں کے دوران بچوں کے حقوق کی سنگین پامالیوں اور ان کی سمگلنگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
اپنی نوعیت کی اس پہلی رپورٹ میں بچوں کی سمگلنگ اور جنگ میں پھنسے بچوں کے حقوق کی چھ سنگین پامالیوں کے مابین قریبی تعلق کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ان میں بچوں کی جنگ کے لیے بھرتی اور لڑائی میں ان کا استعمال، جنگ میں بچوں کا ہلاک، زخمی اور معذور ہو جانا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی اور دیگر طرح کا جنسی تشدد، بچوں کا اغوا، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے اور انسانی امداد تک بچوں کی رسائی روکے جانا شامل ہیں۔
یہ رپورٹ مسلح تنازعات میں بچوں کو درپیش حالات کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ ورجینیا گامبا کے دفتر نے جاری کی ہے۔ اس کی تیاری میں انسانی اور بالخصوص خواتین اور بچوں کی سمگلنگ پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار سیوبھان مولالی نے بھی تعاون کیا ہے۔
رپورٹ میں کولمبیا، افریقہ میں جھیل چاڈ کے طاس، لیبیا، میانمار، جنوبی سوڈان، شام اور یوکرین کی صورتحال کا جائزہ شامل ہے اور اس میں بچوں کو بہتر تحفظ دینے اور ان کے حقوق کی پامالی پر احتساب یقینی بنانے کے لیے سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔
تسلط، دہشت اور جنگ
ورجینیا گامبا نے کہا ہےکہ اس جائزے میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بچوں کی سمگلنگ ان کے حقوق کی چھ سنگین پامالیوں سے جڑی ہے۔ رپورٹ میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے درکار قانونی طریقہ ہائے کار اور پالیسی وضع کرنے سے متعلق اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جو فی الوقت عموماً غیرمربوط ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلح تنازعات میں بچوں کی سمگلنگ کئی طرح کی ہوتی ہے جس میں ان کا جنسی استحصال اور انہیں جنسی مقاصد کے لیے غلام بنایا جانا، نوعمری کی شادی، جنگی مقاصد کے لیے بھرتی اور لڑائی سمیت کئی طرح سے ان کا استعمال شامل ہیں۔
متحارب فریقین لوگوں پر تسلط جمانے، انہیں دہشت زدہ کرنے اور جنگ کو جاری رکھنے کے لیے طویل عرصہ سے ان ہتھکنڈوں سے کام لیتے آئے ہیں۔
بچوں کے حقوق کی سنگین پامالیوں کا ان کی سمگلنگ یا اس کے بعد انہیں پیش آنے والے حالات میں بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دوران جنگ انہیں انسانی امداد سے محروم رکھا جائے تو ان کے انسانی سمگلنگ کا ہدف بننے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
مسئلے کا صنفی پہلو
مزید برآں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں لڑکیاں جنسی استحصال اور نوعمری کی شادی کے خطرے کی زد میں ہوتی ہیں وہیں لڑکوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ، مسلح تنازعات کے دوران مختلف علاقوں سے بچوں کی سمگلنگ کے داخلی و خارجہ پہلو بھی ہیں۔
مثال کے طور پر، ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد بچوں کی کئی طرح سے سمگلنگ اور اس حوالے سے متعدد جگہوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ان میں بچوں کا اغوا اور یزیدی لڑکیوں کی جنسی غلامی اور جبری شادی کے لیے ان کی عراق سے منتقلی بھی شامل ہے۔ شام میں مقامی سنی خاندانوں نے اپنی لڑکیوں کی داعش کے جنگجوؤں سے شادیاں کیں اور بہت سے واقعات میں انہیں خطرات کے باعث ایسا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
احتساب کا فقدان
سیوبھان مولالی نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ مسلح تنازعات کے دوران بچوں کو تحفظ دینے کے معاملے میں پالیسی اور عملی اقدامات کے درمیان اہم فرق کی نشاندہی اور اسے دور کرنے کے لیے اقدامات بھی تجویز کرتی ہے۔
بچوں کو تحفظ دینے کے معاملے میں ان کی سمگلنگ کے مسئلے یا اس کی روک تھام اور مجرموں کے احتساب کو پائیدار امن کے لیے ترجیحی اقدام کے طور پر اب تک بہت کم توجہ دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی سمگلنگ کے ذمہ داروں کا احتساب نہ ہونے کے باعث ایسے عناصر مزید کھل کر اس جرم کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔
ممالک کے لیے سفارشات
اس جائزہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو 'ٹھوس، مخصوص اور بروقت اقدامات' کے لیے سفارشات بھی دی گئی ہیں۔
ایسی ایک سفارش میں متاثرہ بچوں کو سزا نہ دینے کے اصول کے مکمل اطلاق کے لیے کہا گیا ہے کیونکہ سمگلنگ کا شکار ہونے والے بچے اس جرم کے ارتکاب میں حصہ دار ہونے کے بجائے اس کے متاثرین ہوتے ہیں۔ اسی لیے متاثرین کی بروقت نشاندہی بہت ضروری ہے۔
دیگر سفارشات میں ممالک سے بچوں کی سمگلنگ کو روکنے اور متاثرین کا طویل مدتی تحفظ ممکن بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے غربت اور صنفی عدم مساوات پر قابو پانا، تمام بچوں کی عالمگیر رجسٹریشن اور ان کی بے ریاستی حیثیت کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔