حفاظتی ٹیکے لگانے کی عالمی شرح اب بھی قبل از کووڈ وباء کی سطح سے کم
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے طبی مشیروں نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح کووڈ وبا سے پہلے کی سطح کو نہیں چھو سکی جبکہ ہر طرح کی ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد ایک کروڑ 45 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
ادارے کے مشیروں نے اپنے اجلاس میں بتایا ہے کہ حفاظتی ٹیکوں سے یکسر محروم بچوں کا تعلق نچلے درجے کے 31 ترقی پذیر ممالک سے ہے۔
حفاظتی ٹیکوں پر ماہرین کے تزویراتی مشاورتی گروپ کے مطابق، ان میں بہت سے ممالک جنگوں کا شکار ہیں اور وہاں سیاسی و معاشی حالات نازک ہیں۔ نتیجتاً وہاں اس مقصد کے لیے نہ تو سیاسی عزم پایا جاتا ہے نہ ہی حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں پر کوئی سرمایہ کاری کی جاتی ہے جس کے باعث بیماریوں کے سامنے غیرمحفوظ بچوں کی ویکسین تک رسائی نہیں ہوتی۔
طبی ماہرین کی تجویز
ماہرین کے گروپ نے کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک کے لیے حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے نئی ہدایات دی ہیں۔ ان ممالک میں ہر سال بچوں کی بڑی تعداد 'ریسپائریٹری سِنسیشل وائرس' کا نشانہ بنتی ہے۔
یہ وائرس ناک، گلے اور پھیپھڑوں کو نشانہ بناتا ہے اور اس سے متاثرہ بچوں اور معمر افراد کو ہسپتال میں داخل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
گروپ کی سربراہ ڈاکٹر ہانا نوہینک نے کہا ہے کہ انہوں نے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کی صحت و زندگی کو تحفظ دینے کے لیے ماؤں کو ویکسین یا مونوکولونل اینٹی باڈی دیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کووڈ۔19 کے بعد ریسپائریٹری سِنسیشل وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے اور دنیا بھر میں سانس کی نالی کی انفیکشن میں مبتلا ہو کر ہسپتال داخل ہونے والے ایک تہائی مریضوں کو یہی وائرس لاحق ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ہانا نے تصدیق کی ہے کہ اس وائرس سے تقریباً تمام اموات کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔