سلامتی کونسل: گوتیرش کی مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ سے اجتناب کی اپیل
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بدھ کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپیل کی ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی سے بچنے کے لیے خطے میں مکمل جنگ سے ہر صورت پرہیز کیا جائے۔
سیکرٹری جنرل نے کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں ایک ہفتہ قبل ہی حزب اللہ اور لبنان کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں خبردار کر دیا تھا۔ اس کے بعد پورا خطہ تیزی سے جنگ کی لپیٹ میں آنے لگا ہے۔
حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روزانہ عسکری کارروائیاں کر رہے ہیں۔ لبنان کی حکومت کی خودمختاری کا احترام ہونا چاہیے اور ملکی دفاع کی ذمہ داری اس کی فوج کے پاس ہی ہونی چاہیے۔
کونسل کا اجلاس ایسے موقع پر بلایا گیا ہے جب اسرائیل کی فوج نے لبنان میں 'محدود' زمینی حملہ شروع کر رکھا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر تقریباً 200 بلیسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔ قبل ازیں اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔
ایران کے حملے کی مذمت
ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے موجودہ حالات کی وہاں کے شہری بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک ملک میں 1,700 لوگوں کی جانیں اس کشیدگی کی نذر ہو چکی ہیں جن میں 100 سے زیادہ بچے اور 194 خواتین بھی شامل ہیں۔ تقریباً ساڑھے تین لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور لبنان کی حکومت کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 10 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ لوگوں نے شام کی جانب نقل مکانی کی ہے جن میں شامی پناہ گزینوں کے علاوہ لبنان کے شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، گزشتہ سال 8 اکتوبر سے اب تک اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 60 ہزار سے زیادہ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے منگل کی رات ایران کی جانب سے اسرائیل پر 200 کے قریب بلیسٹک میزائل برسائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے سے فلسطینی لوگوں کو کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور نہ ہی اس سے ان کی تکالیف میں کوئی کمی آئی ہے۔
قرارداد 1701 کی ناکامی
سیکرٹری جنرل نے کا کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے ذریعے لبنان اور اسرائیل کے مابین قیام امن کا مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ تاہم، دونوں ممالک کی عارضی سرحد (بلیو لائن) پر اقوام متحدہ کے امن مشن کی فورس 'یونیفل' کے اہلکار بدستور اپنا کام کر رہے ہیں اور اسرائیل کی درخواست کے باوجود وہاں سے اقوام متحدہ کا پرچم اتارا نہیں گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی امدادی ضروریات کے پیش نظر اقوام متحدہ نے لبنان میں ضرورت مند لوگوں کو مدد پہنچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کے لیے مزید وسائل مہیا کرے۔
تباہ کن عسکری کارروائی
انتونیو گوتیرش نے غزہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لوگوں کی تکالیف ناقابل بیان ہیں اور بحیثیت سیکرٹری جنرل اپنے سات سالہ دور میں انہوں نے اس قدر مہلک اور تباہ کن عسکری کارروائی کہیں نہیں دیکھی۔
انہوں نے تمام فریقین کی جانب سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی جن میں مغربی کنارے اور اسرائیل کی سڑکوں پر پیش آنے والے واقعات بشمول منگل کو جفہ میں سات اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اب تشدد کے اس سلسلے کو روکنے میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں جس نے مشرق وسطیٰ کے لوگوں کو بہت بڑی تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی عمل میں لائی جانی چاہیے، تمام یرغمالیوں کو غیرمشروط طور پر رہا ہونا چاہیے اور فلسطینیوں کے لیے موثر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
اجلاس سے امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، اسرائیل، لبنان، ایران، عراق اور شام کے مندوبین نے بھی خطاب کیا۔