مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات ضروری، وولکر ترک
لبنان پر اسرائیل کے حملے اور پھر ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل برسائے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حدود کو چھو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خطے میں امن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خطے کی صورتحال پر آج ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل ہائی کمشنر نے کشیدگی میں فوری کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش بھی مشرق وسطیٰ میں ایک کے بعد دوسری کشیدگی کی مذمت کر چکے ہیں۔
وولکر ترک نے سلامتی کونسل کے ارکان سمیت تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بڑی جنگ سے بچنے کی کوشش کریں جس کے عام شہریوں کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ متحارب فریقین پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک کو ان پر زور دینا ہو گا کہ وہ مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔
دو ریاستی حل کی حمایت
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا اجلاس جنیوا میں جاری ہے۔ کونسل کے 47 میں سے 24 ارکان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں جنگ روکنے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ارکان نے حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین خطرناک علاقائی کشیدگی، اسرائیلی فوج کی جانب سے بلیو لائن عبور کرنے اور اسرائیل پر ایران کے راکٹ حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اجلاس میں چلی کے نمائندوں نے گزشتہ سال 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی جنگ میں یرغمالیوں کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی جبکہ فلسطینی آبادی کو اسرائیل کے مکمل محاصرے کا سامنا ہے۔ فلسطین کے مسئلے کو دو ریاستی طریقہ کار کے تحت حل کرنے کے لیے عالمی اتحاد بنانا ہو گا۔
اس اقدام کی تجویز گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر سعودی عرب، یورپی یونین، ناروے اور دیگر رکن ممالک نے پیش کی تھی۔
مغربی کنارے میں حملوں کی مذمت
کونسل کے اجلاس میں ملائشیا کے نمائندے نے ایشیائی ممالک کی جانب سے بات کرتے ہوئے 17 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں منظور کردہ قرارداد کی حمایت کا اعادہ کیا جس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ملائشیا کے وفد نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے پناہ گزینوں کے کیمپوں کو 'دانستہ' نشانہ بنائے جانے کی بھی مذمت کی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے کردار کا دفاع کیا جو غزہ میں سب سے بڑا امدادی ادارہ ہے۔
اسرائیل کے محاسبے کا مطالبہ
اسرائیل اس مباحثے میں شریک نہیں تھا جس میں جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک نےاس پر فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات عائد کیے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس علاقی نے ان الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ محاسبہ نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل معصوم فلسطینی اور لبنانی شہریوں کا قتل عام کیے جا رہا ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے اسرائیل کے احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 'غزہ، رفح، لبنان اور پورے ایشیا میں اس کے مجرمانہ اقدامات' کی تحقیقات کے لیے انسانی حقوق سے متعلق خصوصی بین الاقوامی طریقہ کار تشکیل دینا چاہیے۔
متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک نے غزہ میں انسانی امداد کی بلارکاوٹ ترسیل کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیگال نے کہا کہ غزہ کی جنگ میں نہ خواتین کو بخشا گیا، نہ بچوں اور نہ ہی ضروری تنصیبات کو تحفظ دیا گیا۔ یہ صورتحال انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ایک کھلا گھاؤ ہے جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں سے فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب ہو رہے ہیں۔