اسرائیل لبنان تنازعہ: سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کیا ہے؟
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے آغاز پر ہونے والے اجلاسوں میں متعدد مواقع پر سفارت کار سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی اہمیت کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔
یہ بات چیت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب اسرائیل اور لبنان کی ملیشیا حزب اللہ کے مابین کشیدگی اور فریقین کے ایک دوسرے پر حملوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گیا ہے۔ حزب اللہ مسلح جنگجو گروہ ہے جسے لبنان کی 128 رکنی پارلیمان میں 62 نشستوں کی صورت میں عوامی نمائندگی بھی حاصل ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے مابین تقریباً دو دہائیوں سے جاری بدامنی کو ختم کرنے کے مقصد سے منظور کردہ اس قرارداد اور اس پر عملدرآمد کے لیے ملکی سرحد پر تعینات اقوام متحدہ کے 10 ہزار امن اہلکاروں کے بارے میں درج ذیل حقائق سے آگاہی اہم ہے۔
جنگ روکنے کے لیے سلامتی کونسل کا اقدام
یہ قرارداد 2006 میں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی اور اس کا مقصد اس وقت حزب اللہ اور اسرائیل کے مابین لڑائی کا خاتمہ کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین ایک غیرفوجی علاقہ قائم کر کے مستقل جنگ بندی کے لیے کہا تھا۔
کونسل نے اس قرارداد کے ذریعے امن کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جن میں لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کی طاقت میں اضافے کی منظوری دینا بھی شامل تھا۔ اس اقدام کے تحت ان اہلکاروں کی تعداد 15 ہزار تک بڑھائی جانا تھی۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کے خاتمے کی نگرانی، جنوبی لبنان سے اسرائیل کی فوج کے انخلا کے بعد لبنانی مسلح افواج کو مدد دینا اور بے گھر ہو جانے والے شہریوں کی واپسی بھی اس قرارداد کے نمایاں نکات تھے۔
اس قرارداد کے ذریعے 'یونیفیل' کے قیام کی مدت میں ہر سال توسیع کے لیے بھی کہا گیا جسے سلامتی کونسل نے 1978 میں قائم کیا تھا۔
قرارداد کے اہم نکات
19 پیراگراف پر مشتمل قرارداد میں سلامتی کونسل نے مکمل جنگ بندی کے لیے کہا جس کے لیے حزب اللہ پر اسرائیل کے خلاف حملے بند کرنے کی شرط عائد کی گئی اور اسی طرح اسرائیل کو بھی لبنان میں عسکری کارروائیوں سے روک دیا گیا۔
قرارداد میں اسرائیل اور لبنان پر زور دیا گیا کہ وہ مستقل جنگ بندی اور درج ذیل اصولوں کی بنیاد پر مسئلے کے طویل مدتی حل کی حمایت کریں۔
- طائف معاہدوں کی متعلقہ شرائط اور قرارداد 1559 (2004) اور 1680 (2006) پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، جس کے تحت لبنان میں تمام مسلح گروہ ہتھیار رکھ دیں گے تاکہ ملک میں لبنان کی حکومت کے علاوہ کسی اور کی عملداری نہ ہو۔
- حکومت کی مرضی کے بغیر غیرملکی افواج لبنان میں نہیں آئیں گی۔
- بیرون ملک سے لبنان کی حکومت کے علاوہ کسی گروہ کو اسلحہ اور دیگر متعلقہ سازوسامان برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
- اسرائیل لبنان میں بارودی سرنگوں کے تمام باقی ماندہ نقشے اقوام متحدہ کو فراہم کرے گا۔
- دونوں فریق بلیو لائن اور لڑائی کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا احترام کریں گے۔ ان اقدامات میں بلیو لائن اور دریائے لیطانی کے درمیان مسلح اہلکاروں، اثاثوں اور ہتھیاروں سے پاک علاقے کا قیام بھی شامل ہے۔
بلیو لائن کے بارے میں یونیفیل کی 60 سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو دیکھیے۔
بلیو لائن کیا ہے؟
لبنان کے جنوبی اور اسرائیل کے شمالی علاقوں کو ایک دوسرے جدا کرنے والے 120 کلومیٹر طویل عارضی سرحد بلیو لائن کہلاتی ہے جسے خطے کے امن میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ 2006 میں دونوں ممالک کے مابین جنگ کے بعد سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد 1701 کے تحت یونیفیل کے امن اہلکاروں کو اس سرحد کا عارضی انتظام سونپا گیا تھا۔
متعدد تاریخی نقشوں کے مطابق دیکھا جائے (جن میں بعض 100 سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں) تو بلیو لائن سرحد نہیں بلکہ ایک عارضی سرحدی لکیر ہے جسے اقوام متحدہ نے 2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کی پسپائی کی تصدیق کے لیے کھینچا تھا۔
بلیو لائن کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارہ قیام امن کا بیان کردہ مکمل تعارف یہاں دیکھیے۔
جب بھی اسرائیلی یا لبنانی حکام بلیو لائن کے قریب کوئی سرگرمی کرناچاہیں تو انہیں یونیفیل کو اس سے پیشگی مطلع کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کایہ مشن دونوں فریقین سے رابطہ کرتا ہے تاکہ کسی ایسی غلط فہمی سے بچا جا سکے جس سے کشیدگی جنم لینے کا اندیشہ ہو۔
قرارداد 1701 پر عملدرآمد کیسے ہوتا ہے؟
بالاآخر لبنان اور اسرائیل نے ہی اپنی حتمی سرحد کا تعین کرنا ہے اور فی الوقت یونیفیل سرحد کا احترام یقینی بنانے اور قراراد 1701 کی شرائط کی خلاف ورزی روکنے کا ذمہ داری ہے۔
کسی فریق کی جانب سے بلیو لائن کو عبور کرنا قرارداد 1701 کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ یونیفیل کے مطابق وہ ایسی ہر خلاف ورزی سے ایک ہی انداز میں نمٹتا ہے۔
یونیفیل بلیو لائن کی نگرانی کرتا ہے جس میں اس کے اوپر فضائی علاقہ بھی شامل ہے۔ مشن اس مقصد کے لیے فریقین کے حکام سے رابطوں اور سرحدی گشت سے کام لیتا ہے اور کسی طرح کی خلاف ورزی کی صورت میں سلامتی کونسل کو مطلع کرتا ہے۔ کونسل کو قرارداد پر عملدرآمد کے حوالے سے ہر چار ماہ کے بعد رپورٹ دی جاتی ہے۔
جب بھی بلیو لائن کے قریب کسی جانب کوئی واقعہ پیش آئے تو یونیفل اس جگہ پر حسب ضرورت اضافی نفری تعینات کرتا ہے تاکہ فریقین کے مابین براہ راست لڑائی کو روکا جائے اور صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ علاوہ ازیں، یونیفیل لبنان کی مسلح افواج اور اسرائیل کی فوج کے ساتھ رابطے رکھتا ہے تاکہ کشیدگی سے بچتے ہوئے حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔
بلیو لائن کی موجودہ صورتحال
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد بلیو لائن پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس عرصہ میں حزب اللہ نے اسرائیل پر متعدد راکٹ حملے کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار ہے۔ جواب میں اسرائیل نے نہ صرف لبنان کے جنوبی علاقوں میں بلکہ اس کے اندر طویل فاصلے تک بھی فضائی حملے کیے ہیں۔ ان کے علاوہ لبنان میں لوگوں کے زیراستعمال مواصلاتی آلے پیجر میں دھماکوں کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ اب لبنان پر زمینی حملہ بھی کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے جولائی کے اواخر میں سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ اکتوبر 2023 کے بعد بلیولائن کے آر پار حملے قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہیں۔
8 اکتوبر 2023 اور 30 جون 2024 کے درمیان یونیفیل نے سرحد کے آر پار 15,101 راکٹ، ڈرون بم اور میزائل برسائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے 12,459 بلیو لائن کے جنوب سے شمال کی جانب اور 2,642 شمال سے جنوب کی طرف داغے گئے۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر طرفین کی سرحدی حدود میں چند کلومیٹر اندر ہی گرے تاہم بعض لبنان میں 130 کلومیٹر اور اسرائیل کی حدود میں 30 کلومیٹر تک بھی پہنچے۔
اب کیا ہو گا؟
30 ستمبر کو اسرائیل کی فوج نے یونیفیل کو بتایا کہ وہ لبنان کے اندر محدود پیمانے پر زمینی کارروائی کرے گی۔
یونیفیل کا کہنا ہے کہ اس خطرناک پیش رفت کے باوجود اس کے امن اہلکار اپنی جگہوں پر موجود ہیں اور حالات کے مطابق اپنی پوزیشن اور سرگرمیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ اگر ضروری ہوا تو انہیں واپس بلانے کے منصوبے بھی تیار ہیں۔
مشن کا کہنا ہے کہ امن اہلکاروں کا تحفظ اور سلامتی ضروری ہے اور تمام فریقین کو اس کا احترام کرنے کی یاد دہانی کرا دی گئی ہے۔ یونیفیل کی فورسز اپنے مراکز میں موجود ہیں اور بعض ضروری فرائض انجام دے رہی ہیں۔ تاہم فی الوقت ان کے لیے سرحد پر گشت کرنا ممکن نہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے لبنان کے چند سرحدی دیہات سے لوگوں کو انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ شہری خواہ نقل مکانی کریں یا اپنے علاقوں میں ہی رہیں، انہیں جنگی کارروائیوں سے تحفظ دینا ضروری ہے۔
یونیفیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کا لبنان میں داخل ہونا اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور قرارداد 1701 کی خلاف ورزی ہے۔ اس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کا باعث بننے والے ایسے اقدامات سے باز رہیں کیونکہ ان سے مزید تشدد اور خونریزی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
مشن کا کہنا ہے کہ جنگ میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ ملنا چاہیے اور بین الاقوامی قانون کا احترام ہونا چاہیے۔ فریقین پر لازم ہے کہ وہ قرارداد 1701 پر عملدرآمد کے عہد کی تجدید کریں جو کہ اس خطے میں استحکام واپس لانے کا واحد قابل عمل ذریعہ ہے۔
کیا یونیفیل طاقت استعمال کر سکتا ہے؟
جی ہاں، بعض حالات میں ایسا ممکن ہے۔
یہ مشن اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 6 کے تحت کام کر رہا ہے اور لبنان کی درخواست پر یونیفیل کی ذمہ داریوں میں ہر سال توسیع کی جاتی ہے۔
یونیفیل کے اہلکار اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران اپنے تحفظ کے بنیادی حق سے کام لے سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مخصوص حالات میں ضرورت پڑنے پر وہ اس حق کے علاوہ بھی متناسب اور بتدریج طور سے طاقت استعمال کر سکتے ہیں تاکہ:
یقینی بنایا جائے کہ اس کے زیرانتظام علاقہ جنگی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
یونیفیل کو کونسل کے تفویض کردہ اختیار کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے بزور طاقت روکنے کی مزاحمت ہو سکے۔
اقوام متحدہ کے عملے، مراکز، تنصیبات اور سازوسامان کو تحفظ دیا جائے۔
اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور امدادی کارکنوں کی سلامتی اور ان کی نقل و حرکت کی آزادی یقینی بنائی جا سکے۔
تشدد کے خطرے کا سامنا کرنے والے شہریوں کو تحفظ دیا جائے۔
قرارداد 1701 کا مکمل متن یہاں دیکھیے۔