انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نیپال: ریکارڈ طوفانی بارشوں اور سیلاب میں سینکڑوں ہلاک

نیپال میں آنے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ایک بپھرا ہوا دریا دارالحکومت کھٹمنڈو سے گزر رہا ہے۔
© UNICEF/Laxmi-Prasad-Ngakhusi
نیپال میں آنے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ایک بپھرا ہوا دریا دارالحکومت کھٹمنڈو سے گزر رہا ہے۔

نیپال: ریکارڈ طوفانی بارشوں اور سیلاب میں سینکڑوں ہلاک

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ نیپال میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں 35 بچوں سمیت 215 لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

سیلاب سے بیشتر اموات دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہوئیں جہاں نصف صدی سے زیادہ عرصہ کے بعد شدید ترین بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس آفت میں سیکڑوں گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ شہر کا جنوبی حصہ بدستور پانی میں ڈوبا ہے۔

Tweet URL

ان بارشوں کا آغاز 27 ستمبر سے ہوا جو 72 گھنٹے سے زیادہ وقت جاری رہیں اور ان سے نیپال کے 77 میں سے 44 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے۔ سیلاب کے باعث پل اور سڑکیں تباہ ہو جانے، بجلی کی فراہمی اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچنے سے ملک کے بہت سے علاقوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

سیلاب سے 7,600 خاندان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور رضاکاروں نے 4,500 لوگوں کی جان بچائی ہے۔ بیشتر متاثرین ایسے ہیں جو غریب بستیوں کے رہائشی تھے جنہیں سیلاب بہا لے گیا۔پانی کی فراہمی کے نظام اور زراعت کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے جس سے آنے والے دنوں میں خوراک کے مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔

بچوں کے لیے خدشات

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف) متاثرہ علاقوں میں صحت و صفائی کا سامان، پانی صاف کرنے کی گولیاں، کمبل اور مچھر دانیاں تقسیم کر رہا ہے۔

ملک میں ادارے کی ترجمان فلورین بوس نے کہا ہے کہ یونیسف نے سیلاب میں تباہ ہو جانے والے ایک بڑے ہسپتال کی جگہ خیموں سے بنا عارضی طبی مرکز بھی قائم کیا ہے جہاں تقریباً دو ہزار لوگوں کی طبی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بہت سے سکول بند ہو جانے کی وجہ سے بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہےکہ بچوں کی سکولوں تک رسائی نہ ہونا تشویشناک بات ہے۔ سکول ناصرف حصول تعلیم کا ذریعہ ہیں بلکہ وہاں بچوں کو تحفظ بھی ملتا ہے۔ امید ہے کہ تعلیمی ادارے جلد بحال ہو جائیں گے۔

غیرمعمولی تباہی

نیپال میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے نمائندے عظمت اللہ نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس آفت کے بعد بنیادی ضروریات جیسا کہ صاف پانی تک رسائی بہت بڑا مسئلہ ہو گی۔ جب سیلابی پانی اتر جائے گا تو ڈینگی جیسی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ تاحال بہت سے سیلاب زدہ دیہات تک رسائی نہیں ہو سکی۔ ادارہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر سڑکوں کو قابل استعمال بنانے اور ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کی طویل مدتی بحالی کے لیے تیاریاں بھی جاری ہیں اور اس ضمن میں امدادی وسائل مہیا کرنے کی اپیل بھی کی جائے گی۔

عظمت اللہ نے کہا ہےکہ نیپال کو موسمیاتی تبدیلی سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے جس نے حالیہ سیلاب جیسے شدید قدرتی حوادث کو جنم دیا ہے جن سے بچنے کے لیے مقامی سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔