انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنگ سے بچنا اور لبنان کی علاقائی سالمیت کا احترام ضروری، گوتیرش

بیروت شہر کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی بمباری کے بعد لوگ ملبے میں سے اپنا سامان تلاش کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Dar al Mussawir/Ramzi Haidar
بیروت شہر کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اسرائیلی بمباری کے بعد لوگ ملبے میں سے اپنا سامان تلاش کر رہے ہیں۔

جنگ سے بچنا اور لبنان کی علاقائی سالمیت کا احترام ضروری، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مابین فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل جنگ سے ہر صورت بچنا اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے لبنان کے وزیراعطم نجیب میقاتی سے رابطہ کر کے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ لبنان میں اقوام متحدہ کا پورا نظام ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔

Tweet URL

سیکرٹری جنرل نے دنیا بھر کے عطیہ دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ حالیہ بحران سے متاثرہ لبنان کے شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے طلب کردہ 426 ملین ڈالر کی فوری فراہمی یقینی بنائیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل ملکی رہنماؤں سے اپنے رابطے برقرار رکھیں گے اور لبنان میں ان کے نمائندے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں کرتے رہیں گے۔

بھاری شہری نقصان

لبنان اور اسرائیل کی سرحد (بلیو لائن) پر تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) نے کہا ہے کہ عام لوگوں کو حالیہ کشیدگی کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ دوران جنگ شہریوں اور شہری تنصیبات کو تحفظ دینا تمام فریقین پر لازم ہے۔

سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ لبنان میں یونیفیل کے حکام سے رابطے میں ہیں جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ فی الوقت اسرائیل کی جانب سے لبنان میں بڑے پیمانے پر حملہ شروع نہیں کیا گیا۔ بلیو لائن پر اقوام متحدہ کے امن اہلکار اپنی جگہوں پر موجود ہیں تاہم گزشتہ چند روز سے وہ سرحد پر معمول کا گشت نہیں کر سکے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ متحارب فریقین پر اثرورسوخ رکھنے والے خطے اور دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ اس کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کریں۔ اقوام متحدہ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر متواتر راکٹ باری پر تشویش ہے۔ ادارہ خطے میں ہر ملک کے شہریوں کا تحفظ اور سلامتی یقینی چاہتا ہے۔