جنرل اسمبلی: اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر یانگ کا عالمی اتحاد پر زور
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے کہا ہے کہ عالمی برادری متحد ہو کر ہی دور حاضر کے پیچیدہ اور حوصلہ شکن مسائل پر قابو پا سکتی ہے جبکہ مذاکرات، دوسروں کی بات سننے اور اجتماعی عمل میں ہی انسانیت کا فائدہ ہے۔
اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطحی عام مباحثے کا اختتام کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کی طاقت اس کے تنوع اور مشترکہ اہداف کے لیے متحد ہونے کی صلاحیت پر ہے۔
انہوں نے حالیہ اجلاس کے موضوع 'فروغ امن، پائیدار ترقی اور ہرجگہ ہر فرد کے لیے انسانی وقار کی خاطر تنوع میں اتحاد' کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف اقوام عالم کا رہنما اصول ہے بلکہ مشترکہ مسائل کے حل اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کی پکار بھی ہے۔ یہ موضوع یاد دہانی کراتا ہے کہ انسان کی طاقت اس کے تنوع اور مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کے باہم متحد ہونے کی صلاحیت پر ہے۔
اسمبلی کے صدر نے رکن ممالک سے کہا کہ وہ اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کو لے کر اکٹھے ہوں اور سبھی کے لیے پرامن، منصفانہ اور باوقار مستقبل کی تعمیر کا واضح عزم کر کے اپنا کام جاری رکھیں۔
کشیدگی روکنے کی اپیل
فائلیمن یانگ نے دنیا میں جاری جنگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے امن کے لیے فوری ضرورت کی یاد دہانی کرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ، لبنان، سوڈان اور یوکرین سمیت دنیا بھر میں بہت سی جگہوں پر مسلح تنازعات جاری ہیں۔ گزشتہ چند روز میں دنیا نے لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین غیرمعمولی کشیدگی کا مشاہدہ کیا۔ اس کشیدگی سے پورے مشرق وسطیٰ کے جنگ کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تنازع فوری ختم ہونا چاہیے۔ دنیا نازک حالات سے دوچار اس خطے میں مکمل جنگ چھڑنے نہ دے۔ اسرائیل، حماس اور حزب اللہ فوری طور پر جنگ بندی عمل میں لائیں اور غزہ میں باقی ماندہ تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر اور نقصان پہنچائے بغیر رہا کیا جائے۔
79واں عام مباحثہ
جنرل اسمبلی کے 79 ویں اجلاس کے آغاز پر عام مباحثہ برازیل کے سدر لوئز اناسیو لولا ڈا سلوا کے خطاب سے شروع ہوا۔
چھ روزہ مباحثے میں 190 رکن ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ نے سبز سنگ مرمر سے بنے اسمبلی کے مشہور پوڈیم پر آ کر خطاب کیا۔
ان رہنماؤں نے خاص طور پر عالمی برادری کو درپیش اہم مسائل اور ان پر قابو پانے کے لیے عالمگیر اتحاد کی ضرورت پر بات کی۔ اسمبلی سے خطاب کرنے والوں میں تین مشاہدہ کار ریاستوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔