بے لگام اسرائیلی جارحیت مشرق وسطیٰ اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک، شام
شام کے وزیر خارجہ بسام سباغ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی بڑے پیمانے پر بلاروک و ٹوک جارحیت سے مشرق وسطیٰ خطرناک کشیدگی کا شکار ہو رہا ہے جس کے پوری دنیا میں امن و سلامتی کے لیے ناقابل تصور نتائج برآمد ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطحی عام مباحثے کے آخری روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین، شام اور لبنان میں اسرائیل کی جارحیت کو روکے، اس کے قابض حکام کے جرائم پر ان کا محاسبہ کرے اور یقینی بنائے کہ وہ سزا سے بچنے نہ پائیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے ملک نے اپنے خلاف مغرب کی پالیسیوں کو واضح طور پر آشکار کیا ہے جو اقوام متحدہ کے اصولوں اور مقاصد کی ضد ہیں۔ گولان سمیت شام کے علاقوں پر 1967 سے جاری اسرائیلی قبضہ اور اس کی جانب سے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم اقوام متحدہ اور خاص طور پر سلامتی کونسل کی ناکامی ہیں۔ کونسل یہ نسل پرستانہ اور توسیع پسندانہ قبضہ اور اسرائیل کی حالیہ جارحیت کو ختم نہیں کرا سکی۔
گولان واپس لینے کا عزم
انہوں نے واضح کیا کہ گولان شام کی زمین ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں رہنے والے لوگ شام کے شہری ہیں اور ہمیشہ شام کا حصہ رہیں گے۔ ان لوگوں نے دہائیوں تک اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کی ہے۔گولان کو واپس لینا شام کا ناقابل انتقال حق ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کی قابض افواج نے گزشتہ مہینوں گولان کے علا مجدل شمس میں شامی قبضے پر بمباری کی جس کے نتیجے بارہ بچے ہلاک ہو گئے جبکہ اس نے واقعے کا الزام دوسرے فریقین کے سر تھوپنے کی کوشش کی۔
فلسطین اور لبنان کا مسئلہ
بسام سباغ نے کہا کہ وہ فلسطینی لوگوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور ان کا ملک اپنے علاقوں سے قبضہ ختم کرانے، اپنی آزاد ریاست قائم کرنے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق اور اس جدوجہد میں ان کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کو ختم کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ غزہ میں ادارے کے 200 سے زیادہ اہلکاروں اور دیگر امدادی اداروں کے عملے کو دانستہ ہلاک کیے جانے پر احتساب ہونا چاہیے۔
وزیر خارجہ نے لبنان کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے دو ہفتے قبل مواصلاتی آلات کو دھماکوں سے تباہ کر کے لبنان کے لوگوں کے خلاف غیرمعمولی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے بیروت میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو ہلاک کیے جانے کی مذمت کی۔
مغربی ممالک پر الزام
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے قبضے اور شام کے خلاف اس کی جارحیت کو مغربی ممالک کے تباہ کن کردار اسے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک شام کے لوگوں کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یکطرفہ اور جابرانہ اقدامات کے ذریعے اس کی دولت کو لوٹ رہے ہیں اور اس طرح ملکی عوام کو اپنے وسائل سے مستفید ہونے نہیں دے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کے خلاف یکطرفہ جابرانہ اقدامات فوری، مکمل اور غیرمشروط طور پر واپس لیے جانے چاہئیں کیونکہ یہ شام کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے اور ان کے خلاف معاشی دہشت گردی کے مترادف اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
مفاہمتی و سیاسی عمل
بسام سباغ نے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے ملک کی خودمختاری، یکجہتی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت، اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے تحفظ دینے اور ان کے رہن سہن کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے دیگر کے علاوہ درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- سلامتی کونسل کی نامزد کردہ دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنے کی کوششیں۔
- قومی مفاہمتی عمل اور مقامی سطح پر سمجھوتوں کا اہتمام۔
- ضرورت مند لوگوں تک انسانی امداد کی فراہمی ک لیے اقوام متحدہ کو تین سرحدی راستے استعمال کرنے کے اجازت ناموں کا اجرا اور دیگر اقدامات۔
- شامی پناہ گزینوں اور نقل مکانی کرنے والوں کی باوقار واپسی کی کوششیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ملک میں مفاہمتی اور سیاسی عمل شروع کرنے کے لیے 'استانہ فارمیٹ' کے تحت ہر طرح کی کوششیں اور اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت ملک میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے اور شام کے لوگوں کے زیرقیادت اور ان کے لیے سیاسی عمل میں سہولت کاری کے حوالے سے ان کے کام میں مدد فراہم کرتی ہے۔