لبنان: اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دس لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور
لبنان میں جاری اسرائیل کی فضائی بمباری کے نتیجے میں اب تک 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو لے کر خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ 17 اور 28 ستمبر کے درمیان اسرائیل کے حملوں میں 11 طبی کارکن ہلاک اور 10 زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں 37 طبی مراکز بند کر دیے گئے ہیں جبکہ تین ہسپتالوں کو لوگوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ جنوبی علاقے بیقع اور دارالحکومت بیروت میں بہت سے طبی کارکنوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
لبنان کے مسلح گروہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیل کے فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں اس کے رہنما فتح شریف الامین ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
'بچوں کے خلاف بھیانک جرم'
گزشتہ ہفتے بمباری سے ہلاک ہونے والوں میں ایک چھ سالہ بچی سیلینا السمرہ بھی شامل ہے۔ جنوبی شہر صور پر بمباری کے دوران اس کے والدین بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کی 10 سالہ بہن سیلائن اس حملے میں زخمی ہوئی۔
یہ دونوں بہنیں ایک غیرسرکاری تنظیم کی ورکشاپ میں آرٹ کی کلاسیں لیتی تھیں۔ یو این نیوز کو فراہم کی جانے والی تصویروں میں سیلینا اپنی ہلاکت سے ایک روز قبل ورکشاپ میں بنائی اپنی ڈرائنگ اٹھائے مسکراتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک مختصر ویڈیو میں اس کی بہن بتاتی ہے کہ وہ اس ورکشاپ میں شرکت کر کے بہت خوشی ہیں اور یہاں انہیں اپنے دوستوں سے ملنے جلنے کا موقع ملتا ہے۔
ورکشاپ میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے اداکار۔ہدایتکار قاسم استنبولی کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے ایام میں جہاں تک ممکن ہو ان بچوں کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ اس ورکشاپ کا مقصد غریب علاقوں میں آرٹ کی تعلیم کو فروغ دینا اور منقسم آبادیوں کو باہم جوڑنا ہے۔
گزشتہ برس استنبولی کو عرب ثقافت کے لیے یونیسکو کے شارجہ اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ 2021 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے 2006 کی اسرائیل۔لبنان جنگ میں بند ہو جانے والے تھیڑوں کو کھولنے میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا تھا۔
استنبولی نے بتایا کہ ان دونوں بہنوں کے والدین صور میں قائم لبنان نیشنل تھیٹر کے قریب ایک ٹھیلے پر مکئی اور پھلیاں فروخت کرتے ہیں۔ یہ بچیاں روزانہ کلاس میں آ کر کہتیں کہ 'پروفیسر قاسم، کیا آج ہماری ڈرائنگ کی کلاس ہو گی؟' جب وہ جواب دیتے کہ 'ہاں ہو گی' تو وہ بہت خوشی ہوتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا کو سیلینا کے خلاف اس بھیانک جرم کا احتساب یقینی بنانا چاہیے۔
شام کی جانب نقل مکانی
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے بتایا ہے کہ لبنان سے نقل مکانی کرنے والے ایک لاکھ لوگ ہمسایہ ملک شام پہنچ گئے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ادارے کی ٹیمیں دونوں ممالک کے مابین چار سرحدی راستوں پر لوگوں کو وصول کر رہی ہیں۔
'یو این ایچ سی آر' اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا امدادی ادارہ (انرا) لبنان میں قائم نو پناہ گاہوں میں 3,350 لوگوں کو انسانی امداد پہنچا ر ہے ہیں جن میں فلسطینی و شامی پناہ گزین اور لبنانی شہری مقیم ہیں۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ بے گھر ہونے والے 10 لاکھ لوگوں میں سے 90 فیصد نے گزشتہ ہفتے ہی نقل مکانی کی ہے۔ ان لوگوں کی مجموعی تعداد 2006 کی جنگ میں نقل مکانی کرنے والوں سے بڑھ گئی ہے۔ ملک کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اتوار سے اب تک ملک بھر میں اسرائیل کے حملوں میں 105 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔