انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بحرانی حالات میں بہتری کی امید برقرار رکھنا ضروری، جے شنکر

انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

بحرانی حالات میں بہتری کی امید برقرار رکھنا ضروری، جے شنکر

اقوام متحدہ کے امور

انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ جنگوں، تقسیم، غیرمنصفانہ تجارت، موسمیاتی تبدیلی اور غذائی و طبی عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل کا شکار دنیا میں بہتری لانے کے لیے تمام ممالک کو اقوام متحدہ میں سنجیدہ اور بامقصد کردار ادا کرنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دنیا میں اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ ممالک نے بین الاقوامی نظام سے تو بھرپور فائدہ اٹھایا ہے لیکن خود اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔ بات چیت مشکل ہو گئی ہے اور سمجھوتے کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ یہ وہ دنیا نہیں جس کا تصور اقوام متحدہ کے بانیوں کے اذہان میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کثیر فریقی نظام میں اصلاحات لانا اب ضروری ہو چکا ہے۔

وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ جنرل اسمبلی کو خود سے سوال کرنا ہو گا کہ یہ مسائل کیسے حل ہوں گے۔ ہر تبدیلی کا کہیں نہ کہیں سے آغاز ہونا ہے اور اس کے لیے وہی جگہ سب سے زیادہ موزوں ہے جہاں سے ان مسائل کا آغاز ہوا۔

ترقی کی جستجو

جے شنکر نے کہا کہ انڈیا نے کئی طریقوں سے تبدیلی اور بہتری لانے کی کوشش کی ہے جن میں بے وسیلہ لوگوں، خواتین، کسانوں اور نوجوانوں کی مخصوص ضروریات کے حوالے سے پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ صاف پانی، بجلی، کھانا بنانے کے لیے گیس اور خوراک پیدا کرنے والوں کی مدد کے لیے انہیں نئے گھروں کی فراہمی اس کی نمایاں مثال ہیں۔

جے شنکر نے کہا کہ انڈیا نے روزگار اور کاروبار کے مواقع کو بھی وسعت دی ہے، خدمات عامہ کے لیے ڈیجیٹل نظام بنایا ہے اور دنیا کے جنوبی ممالک کی کانفرنسوں کا انعقاد کرتے ہوئے 78 ممالک کی اہم ضروریات کی تکمیل کے لیے کوششیں کی ہیں۔ اس مشکل وقت میں امید دینا اور بہتری کی امید کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

انڈیا نے چاند پر مشن بھیج کر، اپنی 5 جی ٹیکنالوجی شروع کر کے، دنیا بھر میں ویکسین فراہم کر کے، مالیاتی ٹیکنالوجی سےکام لے کر اور بہت سے عالمی صلاحیتی مراکز قائم کر کے دنیا کو اہم پیغام دیا ہے۔ ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی اس جستجو کی دوسرے بھی پیروی کریں گے۔

پاکستان پر تنقید

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام کامیابیوں کے باوجود مسائل بھی درپیش ہیں۔ بہت سے ممالک ایسے حالات کے باعث پیچھے رہ گئے جو ان کے اختیار میں نہیں تھے۔ لیکن بعض ممالک نے دانستہ تباہ کن راستہ منتخب کیا جس کی ایک مثال انڈیا کا ہمسایہ اور ابنارمل ملک پاکستان ہے جس کی نظریں دوسروں کی زمین پر ہیں۔ اس کی سرحد پار دہشت گردی کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اہم مسائل پر دنیا کے بڑے حصوں کی بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اقوام متحدہ کو موثر اور اپنے مقصد سے پوری طرح ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ متحد ہو کر، تجربات کا تبادلہ اور وسائل کو مجتمع کر کے اور اپنے عزم کو مضبوط بنا کر دنیا کے حالات تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔