چین تنازعات کے سفارتکارانہ حل پر یقین رکھتا ہے، وزیر خارجہ وانگ یی
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ان کا ملک غیرمستحکم حالات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے قیام امن کے لیے ثالثی اور دنیا بھر میں تعمیری کردار ادا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ چین نے برازیل اور جنوبی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر 'امن کے لیے دوست ممالک کا گروپ' بنایا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو برقرار رکھنا، بحرانوں کا سیاسی حل نکالنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا اور امن کے امکانات کو مضبوط بنانا ہے۔
جابرانہ پالیسیوں کی مخالفت
وانگ یی نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ انسان کے ضمیر پر سب سے بڑا گھاؤ ہے، غزہ کی جنگ میں ہر گزرتے دن ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور لبنان میں بھی دوبارہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ طاقت کبھی انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی۔ فلسطینیوں کے اپنی آزاد ریاست قائم کرنے کی دیرینہ خواہش اور دہائیوں سے ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو مزید نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ نے افریقہ کے ممالک اور دنیا کے بعض کم ترین ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) کے ساتھ اپنی شراکت کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کا ملک پابندیوں، مقاطع اور تجارتی اشیا کی ترسیل کے نظام میں خلل پیدا کرنے جیسے یکطرفہ جابرانہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔
پابندیوں اور دباؤ سے اجارہ داری قائم نہیں کی جا سکتی۔ دوسروں کو دبانے اور الگ تھلگ کرنے سے اندرون ملک مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ بہتر زندگی کے لیے تمام ممالک کے لوگوں کا حق چھینا نہیں جا سکتا۔انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کیوبا کے خلاف اپنی پابندیاں اور اس کے لوگوں کی بطور دہشت گرد نامزدگیاں واپس لے۔
کاربن کے اخراج پر قابو پانے کا عزم
وزیر خارجہ نے ماحول دوست توانائی کا استعمال عام کرنے، کاربن کے اخراج میں کمی لانے اور پائیدار ترقی کے لیے اپنے ملک کے عزم کو بھی واضح کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کم ترین وقت میں کاربن کے اخراج پر قابو پانے کے اہداف حاصل کرنے والا ملک بن جائے گا اور انسانیت اور فطرت کے مابین بقائے باہمی کے لیے نمایاں اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مسائل کے حوالے سے مشترکہ و متنوع ذمہ داریوں کے اصول کو برقرار رکھا جانا چاہیے اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے سے متعلق پیرس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل ہونا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی ہرممکن مدد کریں۔
اقوام متحدہ میں اصلاحات کی حمایت
وانگ یی نے اقوام متحدہ میں اصلاحات لانے، اسے جدید بنانے اور عالمی مالیاتی نظام کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دینے کے لیے چین کی جانب سے حمایت کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس ضمن میں مالیاتی مدد اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرے گا۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے جائز مطالبات سنے اور اپنے ہاں جنوبی دنیا کی نمائندگی میں اضافہ کرے۔
خطاب کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ چین اقوام متحدہ کے بنیادی مقاصد کی تجدید کے لیے تمام ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے اور ادارے کے چارٹر سے اپنی غیرمتزلزل وابستگی کی توثیق کرتا ہے۔ چین عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے حقیقی کثیرفریقی طریقہ کار کا حامی ہے اور تمام انسانوں کے لیے یکساں طور سے بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔