انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں سے مشاورت ضروری، محمد یونس

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ (مشیر اعلیٰ) محمد یونس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ (مشیر اعلیٰ) محمد یونس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں سے مشاورت ضروری، محمد یونس

اقوام متحدہ کے امور

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ (مشیر اعلیٰ) محمد یونس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ پائیدار ترقی اور دنیا کو مزید منصفانہ بنانے کے لیے اپنے ممالک میں نوجوان نسل پر سرمایہ کاری کریں۔

اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے نوجوان غربت، موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات جیسے بڑے عالمی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں بااختیار بنانا اور ان کی صلاحیتوں سے کام لینا ہو گا تاکہ مزید مشمولہ و مستحکم دنیا کی تعمیر ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جولائی اور اگست میں بنگلہ دیش میں آنے والی تاریخ ساز تبدیلی کی بدولت ہی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اقوام عالم سے خطاب کر رہے ہیں۔ عوام اور بالخصوص نوجوانوں کی طاقت نے بنگلہ دیش کو آمرانہ اور غیرجمہوری حکومت سے نجات دلائی۔ نوجوانوں کے زیرقیادت تحریک کے ذریعے بنگلہ دیش سیاسی آگاہی کے نئے دور میں داخل ہوا ہے۔

مساوات، ترقی اور نوجوانوں کا کردار

محمد یونس نے کہا کہ اس تبدیلی کے ساتھ بہت سے مسائل بھی آئے ہیں لیکن نوجوانوں کا عزم ملک میں مزید مساوی اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ڈال رہا ہے۔

انہوں نے جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک امن، ترقی اور حقوق سے اپنی وابستگی قائم رکھے گا۔ آزادی اور وقار کے اصولوں کو بنگلہ دیش کی حکومت اور اس کے بین الاقوامی موقف میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

بنگلہ دیش کے لوگوں نے غیرمعمولی جرات سے آزادی اور اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور آج نوجوان انصاف، مساوات اور مستقبل میں اپنے کردار کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں ایسا ماحول ملنا چاہیے جس میں وہ ترقی، اختراع اور قیادت کر سکیں۔

خوداختیاری اور باوقار زندگی

محمد یونس نے نوجوانوں کی بااختیاری اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول میں باہمی تعلق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دور حاضر کے مسائل فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی بامعنی اور بھرپور شرکت کا تقاضا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی آزادی سے حاصل کیے جانے والے اسباق کا ملک میں نوجوانوں کے افعال اور امنگوں سے آج بھی اظہار ہوتا ہے۔ تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے اپنی اقدار کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ آزادی، وقار اور بلاامتیاز تمام لوگوں کے حقوق کو برقرار رکھنا محض خواہش یا اچھا مقصد نہیں بلکہ یہ ہر فرد کا حق ہے۔