بحرانوں میں پھنسی دنیا کا نئی سرد جنگ کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ، شہباز شریف
پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے لے کر موسمیاتی تبدیلی تک بہت سے مسائل میں جکڑی دنیا دوبارہ سرد جنگ کی لپیٹ میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ کے شعلے پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلنے کا سنجیدہ خطرہ ہے۔ مقدس سرزمین پر رونما ہونے والا یہ المیہ انسانیت کا ضمیر جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
وزیراعظم شریف نے سوال کیا کہ جب بچے اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دفن ہوں تو کیا انسان ہونے کے ناطے کوئی خاموش رہ سکتا ہے؟ کیا اپنے بچوں کے بے جان لاشے اٹھانے والی ماؤں کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ محض جنگ نہیں بلکہ معصوم لوگوں کا منظم قتل عام ہے۔ اس جنگ کی مذمت کرنا کافی نہیں بلکہ 1967 کی سرحدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل نکالنا اور فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینا ضروری ہے۔ بصورت دیگر پورا مشرق وسطیٰ ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا جس کے اثرات انتہائی سنگین اور ناقابل تصور ہوں گے۔
جموں و کشمیر کا مسئلہ
وزیراعظم نے فلسطینیوں کے حالات کو جموں و کشمیر کی صورتحال سے مماثل قرار دیا اور کہا کہ کشمیر کے لوگ بھی تقریباً ایک صدی سے آزادی اور حق خود اختیاری کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 سے انڈیا نے اس علاقے میں یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کیے ہیں جنہیں اس کے رہنماؤں نے مسئلے کا 'حتمی حل' قرار دیا ہے۔ جموں و کشمیر میں انڈیا کی نو لاکھ فوج طویل کرفیو، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور ہزاروں نوجوانوں کے اغوا جیسے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا نے بہت بڑی فوج دراصل پاکستان کے خلاف جمع کر رکھی ہے اور اگر اس نے کسی جارحیت کا ارتکاب کیا تو پاکستان انتہائی فیصلہ کن انداز میں اس کا جواب دے گا۔
غریب ممالک کے لیے 'موت کا پھندا'
شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی کے شدید ہوتے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے تاہم یہ اس مسئلے کی بہت بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ اس میں دو برس قبل ملک میں آنے والے سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان بھی شامل ہے جبکہ آلودگی کی قیمت اسے پھیلانے والوں کو ہی ادا کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 100 ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا نہ ختم ہونے والا بوجھ ہے اور انہیں مالی وسائل کی قلت کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال ان ممالک کے لیے گویا موت کا پھندا ہے جبکہ انہیں تحفظ دینے کا ذمہ دار بین الاقوامی مالیاتی نظام خود اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تجارت اور ٹیکنالوجی کے عالمی نظام میں اصلاحات لائی جانی چاہئیں اور انہیں ترقی اور عالمگیر مساوات کے فروغ کے مقصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں جمع عالمی رہنماؤں کو اپنے لوگوں کے لیے یہ پیغام لے کر واپس جانا چاہیے کہ کمزور بے آواز نہیں ہیں، جبر کا سامنا کرنے والے امید کھوٹی نہ کریں، غربت کسی کا مقدر نہیں ہے اور دنیا میں انصاف اور مساوات کا احترام ہونا چاہیے۔