انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑتا رہے گا، بینجمن نیتن یاہو

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑتا رہے گا، بینجمن نیتن یاہو

اقوام متحدہ کے امور

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمن اس کا اور انسانیت کی مشترکہ تہذیب کا خاتمہ کر کے جبر و دہشت کا راج چاہتے ہیں جبکہ ان کا ملک اپنے دفاع کی جنگ لڑتا رہے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس سال اسمبلی میں آنا نہیں چاہتے تھے، لیکن دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے اپنے ملک کے خلاف 'جھوٹ اور بہتان طرازی' سننے کے بعد انہوں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقصد اپنے لوگوں، ملک اور سچائی کی خاطر بات کرنا اور 'ریکارڈ کی درستگی' ہے۔

غزہ کو غیرفوجی علاقہ بنانے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین تعلقات معمول پر آ رہے تھے کہ 7 اکتوبر رونما ہو گیا جب ایران کی پشت پناہی میں حماس کے دہشت گردوں نے اسرائیل پر دھاوا بولا اور ناقابل تصور مظالم کا ارتکاب کیا۔ اس دوران انہوں نے بچوں سمیت 1,200 لوگوں کو قتل کیا، خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسرائیل سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 251 افراد کو اغوا کر لیا۔ یہ مناظر نازی ہولوکاسٹ کی یاد دلاتے ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں حماس کی حکومت قبول نہیں کرے گا۔ اس علاقے کو غیرعسکری بنا کر شدت پسندی سے پاک کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی اسرائیل جنگ کے آخری مرحلے کے بارے میں یقین دہانی کرا سکے گا۔ مکمل فتح تک جنگ جاری رہے گی اور اس کا کوئی متبادل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایسی مقامی شہری انتظامیہ کے لیے علاقائی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے جو اسرائیل کے ساتھ امن قائم رکھے۔

ایران کو انتباہ

انہوں نے مباحثے کے سامعین کو دو نقشے دکھائے جن میں سے ایک کو رحمت اور دوسرے کو لعنت کا نقشہ قرار دیا۔ اول الذکر نقشے میں ایران کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس نے بحر ہند سے بحیرہ روم تک دہشت پھیلا رکھی ہے۔ اگر اسے روکا نہ گیا تو ناصرف مشرق وسطیٰ میں ہر ملک بلکہ باقی دنیا میں بھی بہت سے ممالک بھی خطرے میں ہوں گے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ہر ملک کو یہ یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہ پائے اور اسرائیل اس مقصد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔

اسرائیل کے وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایران ان کے ملک پر حملہ کرے گا تو اس پر جوابی حملہ کیا جائے گا اور ایران سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تک اسرائیل کی پہنچ نہ ہو۔

لبنان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے وہاں کے مسلح گروہ حزب اللہ کو ایسی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جس کے ہاتھ دنیا کے ہر براعظم میں پھیلے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے پر رونق شہروں کو ویران کر دیا ہے۔ جب تک یہ تنظیم جنگ کے راستے پر رہے گی اس وقت تک اسرائیل کے پاس کوئی اور راہ نہیں ہو گی اور وہ اس خطرے کا قلع قمع کرنے اور اپنے شہریوں کو بحفاظت واپس لانے کا مکمل حق رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ پر الزامات

اسرائیل کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کو 'تاریکی کا گھر' قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس میں صرف فلسطینیوں کی طرفداری کی جاتی ہے اور اس کے یہود مخالف ماحول میں بہت سے ممالک یہودی ریاست کو خطرہ قرار دینے پر تلے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برس کے دوران جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی قراردادوں کی تعداد دنیا کے دیگر تمام ممالک کے خلاف قراردادوں سے کہیں زیادہ تھیں۔

انہوں نے کہا اقوام متحدہ میں یہود مخالفت کے ہوتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کی جانب سے ممکنہ طور پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اسرائیل پر نسل کشی کے ارتکاب کا الزام جھوٹا ہے اور ان کا ملک غزہ کی جنگ میں شہریوں کا نقصان کم سے کم رکھنے کی ہرممکن کوشش کر رہا ہے۔