عالمی امن، ترقی اور مساوات وقت کی ضرورت، برطانوی وزیراعظم
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ غزہ سے یوکرین تک اور دیگر دنیا میں بیشتر امدادی ضروریات نے جنگوں سے جنم لیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری امن، ترقی اور مساوات کی جانب پیش رفت کرے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اعلیٰ سطحی عام مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ زمانہ طالب علمی سے وزیراعظم بننے تک ان کے لیے باعث تحریک رہا ہےکیونکہ اس میں مساوی حقوق اور امن کی بات کی گئی ہے۔ تاہم دنیا میں جنگوں، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور وباؤں جیسے مسائل کے باعث امن، سلامتی اور مساوات موہوم امید بن گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ذمہ دارانہ عالمی قیادت کرنے جا رہا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اقوام متحدہ سے تجدید عہد اور امن، ترقی و مساوات کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کا وقت ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا ملک یوکرین کی مدد جاری رکھے گا اور اسرائیل سے کہے گا کہ وہ مسائل کے سفارتی حل کی گنجائش مہیا کرے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے جہاں لوگوں کی تکالیف مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ سفارت کاری ہی تشدد کے چکر سے باہر نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
مستقبل کے معاہدے کی اہمیت
کیئر سٹارمر نے کہا کہ دنیا کو چند کڑی سچائیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ امن کے لیے کام کرنے والے اداروں کو مشکلات، مالی مسائل اور دباؤ کا سامنا ہے اور وہ حد سے زیادہ سیاست زدہ ہو چکے ہیں۔ انضباط اسلحہ کا پورا نظام ناکارہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور مصنوعی ذہانت کسی ضابطے کے بغیر عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگی ہے۔
اسی لیے مستقبل کا معاہدہ بہت اہم ہے اور اس سے ایسے وقت میں امن کے لیے کام کرنے والے اداروں کو بامقصد بنانے میں مدد ملے گی جب دنیا کو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کی جانب پیش رفت کو دوبارہ درست سمت میں گامزن کرنے کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عزم
برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کا ملک اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس نے خشکی پر ہوائی توانائی پیدا کرنے پر عائد پابندی اٹھا لی ہے، تیل و گیس کے استخراج کے نئے اجازت نامے دینا بند کر دیے ہیں اور 2030 تک ماحول دوست توانائی کی جانب کامیاب منتقلی کے لیے کام کرنے والی پہلی بڑی معیشت بن گیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ برطانیہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے اپنا (نیٹ زیرو) ہدف حاصل کر لے گا اور دوسروں کو بھی اس میں مدد دے گا۔ اس ضمن میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے میں تعاون فراہم کیا جائے گا کیونکہ جن ممالک نے یہ بحران پیدا نہیں کیا انہیں اس کے نتائج سے نمٹنے کے لیے اکیلا چھوڑ دینا درست نہیں۔
اداروں میں اصلاحات کی حمایت
کیئر سٹارمر نے کہا کہ غیرمستحکم قرضوں کے مسئلے سے نمٹنے، ماحول دوست اقدامات پر سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور کاربن کے اخراج پر محصول عائد کرنے جیسے دلیرانہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ غربت کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے پرعزم منصوبوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ وقت کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ان معاملات پر پہلے ہی اقوام متحدہ کے ارکان کے ساتھ کام کر رہا ہے کیونکہ دنیا کو درپیش مسائل یہی تقاضا کرتے ہیں اور خوشحالی و سلامتی کا بھی اسی پر دارومدار ہے۔ دنیا کے لیے خطرناک اور تباہ کن راستے سے واپسی اور قانون، تعاون، ذمہ دارانہ طرزعمل، ترقی اور امن کی جانب مراجعت ممکن ہے۔