انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا نے غزہ کے بیس لاکھ لوگوں کو مایوس کیا ہے، گوتیرش

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کا ایک سکول جہاں نقل مکانی پر مجبور خاندان پناہ لیے ہوئے تھے حال ہی میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنا (فائل فوٹو)۔
© UNRWA
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انرا‘ کا ایک سکول جہاں نقل مکانی پر مجبور خاندان پناہ لیے ہوئے تھے حال ہی میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنا (فائل فوٹو)۔

دنیا نے غزہ کے بیس لاکھ لوگوں کو مایوس کیا ہے، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا نے غزہ کے لوگوں کو مایوس کیا ہے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (انرا) ہی اس جہنم زار میں جنگ سے تباہ حال لوگوں کی واحد امید ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ غزہ کے 20 لاکھ فلسطینی شنگھائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جتنی جگہ پر پھنسے ہیں۔ یہ لوگ زندگی بسر نہیں کر رہے بلکہ محض سانس لے  رہے ہیں۔ انہیں نکاسی آب کی سہولت میسر نہیں، علاقے میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں اور ہر جانب ملبہ بکھرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے غزہ کے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔

Tweet URL

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے زیرقیادت حملوں کے بعد غزہ پر اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں 41 ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ 90 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے اب صرف ایک ہی بات یقینی ہوتی ہے کہ آنے والا کل آج سے زیادہ برا ہو گا۔

'انرا' کے خلاف مہمات

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ غزہ میں 'انرا' کے 222 اہلکار اور متعدد کے اہلخانہ بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں بیشتر ہلاکتیں پناہ گاہوں پر بمباری کے نتیجے میں ہوئیں اور یہ کسی مسلح تنازع کے دوران اقوام متحدہ کا اب تک سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ عملے پر متواتر حملوں کے باعث غزہ میں امدادی کام متاثر ہوا ہے۔

انسانی امداد فراہم کرنے کی سرگرمیوں کو حملوں سے تحفظ دینے کا طریقہ کار ناکام ہو گیا ہے۔ مشرقی یروشلم میں 'انرا'  کو اس کے ہیڈکوارٹر سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں اور سیاسی سطح پر ادارے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے جس میں اس کے بارے میں غلط اطلاعات پھیلانے اور اس کی ساکھ خراب کرنے کی منظم مہمات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کی پارلیمان میں پیش کیے جانے والے قانون کا حوالہ بھی دیا جس میں 'انرا' کو دہشت گرد تنطیم قرار دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اسرائیل کے علاقے میں اس کی سرگرمیاں خلاف قانون قرار پائیں گی۔

رکن ممالک کا اعتماد

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تباہ کن حالات کے باوجود 'انرا' قائم ہے اور اس کی غیرجانبداری شبے سے بالاتر ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک بھی ادارے پر اسی اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ادارے کے اہلکاروں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد جن ممالک نے اس کی امداد بند کر دی تھی ان سب نے اب اپنے فیصلے واپس لے لیے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دنیا کے 123 ممالک نے 'انرا' کی مدد کے اعلامیے پر دستخط بھی کیے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں 'انرا' کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ادارے کے اس اہم مشن میں اسے حسب ضرورت، قابل بھروسہ طور سے اور بھرپور مالی مدد فراہم کی جائے۔