اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بڑھتی مدافعت سے نمٹنے کے اعلامیہ کی منظوری
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں نے جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت (اے ایم آر) کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے وعدوں پر مشتمل اعلامیے کی منظوری دے دی ہے۔
اس اعلامیے میں جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں ہونے والی اموات کو 2030 تک 10 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف طے کرنے کے ساتھ اس ضمن میں اہم طریقہ ہائے کار کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
عالمی رہنماؤں کے منظور کردہ اس اعلامیے میں 'اے ایم آر' پر قابو پانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ ان وسائل کو 60 سے زیادہ ممالک میں اس مسئلے سے نمٹنے کے منصوبوں کو مدد دینے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔
لازمی اخلاقی تقاضا
اس موقع پر جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے کہا کہ 'اے ایم آر' دور حاضر کا بہت بڑا خطرہ ہے اور یہ محض عالمگیر صحت عامہ کا بحران ہی نہیں بلکہ ترقی کے حوالے سے بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ جراثیموں کی مزاحمت ادویات کو بے اثر کر دیتی ہے، یہ خطرہ سرحدوں سے ماورا ہے اور اس پر قابو پانا ایک لازمی اخلاقی تقاضا ہے۔
فائلیمن یانگ نے کہا کہ جراثیم کش ادویات روزانہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچاتی ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایک دن یہ دوائیں کارآمد نہیں رہیں گی۔
انسانوں، جانوروں اور پودوں میں بیماریوں پر قابو پانے سے متعلق دنیا کی صلاحیتوں کے تناظر میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ غذائی تحفظ، غذائیت، معاشی ترقی، مساوات اور ماحولیاتی تحفظ جیسے معاملات بھی اسی سے جڑے ہیں۔
اجلاس میں شریک عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے پینسلین کے موجد الیگزنڈر فلیمنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1945 میں نوبیل انعام وصول کرنے کے موقع پر کی جانے والی اپنی تقریر میں خبردار کر دیا تھا کہ 'اے ایم آر' انسانیت کے لیے کس قدر خطرناک ہو سکتی ہے۔
صحت و ترقی کے لیے خطرات
ڈاکٹر ٹیڈروز نے کہا کہ 'اے ایم آر' صحت و ترقی ک لیے بہت بڑا خطرہ ہے جو طبی میدان میں دہائیوں کی پیش رفت کو ضائع کر سکتا ہے۔ اس خطرے کا تعلق مستقبل سے نہیں بلکہ یہ اس وقت دنیا میں موجود ہے اور کوئی بھی ملک اس سے محفوط نہیں۔ تاہم کم اور متوسط آمدنی والے ممالک اس سے کہیں زیادہ متاثر ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2016 میں اس مسئلے پر ہونے والے ایک بڑے عالمی اجلاس کے بعد بیشتر ممالک نے اس پر قابو پانے کے لیے نمایاں پیشرفت کی ہے تاہم اس سے جلد از جلد نمٹنے کے لیے مزید اقدامات اور مالی وسائل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے 'اے ایم آر' کے خلاف اعلامیے کو اس مسئلے سے نمٹنے کے عالمگیر منصوبے کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔ اس منصوبے پر ممکنہ طور پر 2026 میں عملدرآمد شروع ہو گا۔
800 ارب ڈالر کا نقصان
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا کہ 'اے ایم آر' ایک پیچیدہ اور موجودہ خطرہ ہے اور اس کا شمار عالمگیر صحت و ترقی کو لاحق 10 بڑے خطرات میں ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ 'اے ایم آر' کے باعث ہر سال 13 لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ ان سے ختم ہونے والی زندگیوں، تباہ ہونے والے خاندانوں اور ضائع ہو جانے والے مستقبل کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مسئلے سے دنیا کو ہر سال طبی اقدامات پر اٹھنے والے اخراجات اور کام کی افادیت کے ضیاع کی صورت میں 800 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور طبی پیش رفت کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔