انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنگ بندی کی قراردادیں ویٹو کر کے امریکہ نے اسرائیل کی حوصلہ افزائی کی، عباس

فلسطین کے صدر محمود عباس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
فلسطین کے صدر محمود عباس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

جنگ بندی کی قراردادیں ویٹو کر کے امریکہ نے اسرائیل کی حوصلہ افزائی کی، عباس

اقوام متحدہ کے امور

فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں بڑے پیمانے پر نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ عالمی برادری اس کے خلاف پابندیاں عائد کرے اور اس سے اقوام متحدہ کی رکنیت واپس لی جائے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطحی عام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی ایک سال سے اسرائیل کے انتہائی وحشیانہ جرائم کا سامنا کر رہے ہیں جس کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اسرائیل نے صرف غزہ میں ہی 40 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے اور مزید ہزاروں لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہیں۔ ناصرف غزہ بلکہ مغربی کنارے اور یروشلم میں بھی فلسطینیوں کو ہلاک و زخمی کیا جا رہا ہے۔

غزہ میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، صاف پانی اور ضروری ادویات کی شدید قلت ہے اور 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں جن میں بہت سے لوگوں کو پناہ کی تلاش میں کئی مرتبہ نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کی کہی جھوٹی باتوں کا جواب نہیں دے رہے جنہوں نے جولائی میں امریکی کانگریس میں کہا تھا کہ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں بے گناہ شہریوں کو قتل نہیں کیا۔

فلسطینی صدر نے سوال کیا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو غزہ میں 15 ہزار سے زیادہ بچوں، اتنی ہی خواتین اور بوڑھوں کو کس نے قتل کیا اور کون ان کا قتل عام کیے جا رہا ہے۔

امریکہ پر تنقید

محمود عباس نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو تین مرتبہ ویٹو کر کے اس جنگ کو دوام دیا۔ یہی نہیں بلکہ وہ اسرائیل کو مہلک ہتھیار فراہم کر رہا ہے جن سے ہزاروں بے گناہ فلسطینی بچوں اور خواتین کو ہلاک کیا گیا اور اسرائیل کی اپنی جارحیت جاری رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ویٹو کا اختیار استعمال کر کے فلسطین کو اقوام متحدہ میں مکمل ریاست کا درجہ حاصل کرنے سے بھی روکا۔ نجانے کیوں امریکہ فلسطینیوں کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور انہیں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح آزادی اور خودمختاری کے جائز حقوق سے محروم رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔

بعداز جنگ منصوبہ

محمود عباس نے غزہ کے لیے اپنا 12 نکاتی بعد از جنگ منصوبہ بھی پیش کیا جس میں جامع جنگ بندی اور مغربی کنارے و مشرقی یروشلم میں سکیورٹی فورسز اور آباد کاروں کے حملے بند کرنے کی بات کی گئی ہے۔

بڑی مقدار میں انسانی امداد فوری طور پر اور باقاعدگی سے غزہ میں پہنچانا، علاقے سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی واپسی بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

منصوبے کے دیگر نمایاں نکات میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے عملے کو تحفط دینے، فلسطینی علاقوں میں بنیادی ڈھانچےکی بحالی، غزہ کا مکمل انتظام فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے اور عالمی عدالت انصاف کی جانب سے اسرائیل کو دیے گئے احکامات پر مکمل علمدرآمد یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔

محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے کہا کہ وہ اس منصوبے کو منظور کرے اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ضروری مدد مہیا کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک اس منصوبے میں ترمیم کے لیے ہونے والی بات چیت میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔