انسانی کہانیاں عالمی تناظر
جراثیم کش ادویات کا حد سے زیادہ یا غلط استعمال جراثیمی مزاحمت کو تقویت دیتا ہے۔

چھپا قاتل: انیٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کیا ہے؟

© CDC/Dan Higgins/James Archer
جراثیم کش ادویات کا حد سے زیادہ یا غلط استعمال جراثیمی مزاحمت کو تقویت دیتا ہے۔

چھپا قاتل: انیٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کیا ہے؟

صحت

جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت (اے ایم آر) سالانہ 13 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے اور 50 لاکھ دیگر اموات میں بھی اس کا کردار ہوتا ہے۔ صحت و صفائی برقرار رکھنے، ویکسین لگوانے اور ادویات کے بہت زیادہ یا غلط استعمال سے پرہیز کرتے ہوئے اس خطرے کو دور رکھا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آج عالمی رہنما 'اے ایم آر' غوروخوض کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ اس موقع پر دنیا کو درپیش اس بڑے طبی مسئلے کے بارے میں درج ذیل معلومات سے آگاہی ضروری ہے۔

اے ایم آر کیا ہے؟

اینٹی بائیوٹکس سے لے کر اینٹی وائرلز تک بہت سی جراثیم کش ادویات کی بدولت گزشتہ ایک صدی کے عرصہ میں انسانی کی اوسط عمر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہر سال یہ ادویات لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، ان ادویات کے خلاف مزاحمت اس وقت جنم لیتی ہے جب یہ بیکٹیریا، وائرس، فنگی اور طفیلی جرثوموں پر اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ اس طرح مریضوں کو ان ادویات کا فائدہ نہیں ہوتا اور انفیکشن کا علاج مشکل یا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں بیماری کے پھیلاؤ، اس کی شدت میں اضافے، جسمانی معذوری اور موت کے خطرات بڑھ جاتے یہں۔

کووڈ۔19 کی طرح ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت سرحدوں سے ماورا ہوتی ہے اور کوئی بھی فرد اس سے محفوظ نہیں ہوتا۔ تاہم کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے موجود ہے۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف جراثیمی مدافعت بڑھتی جا رہی ہے۔
WHO/Quinn Mattingly
اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف جراثیمی مدافعت بڑھتی جا رہی ہے۔

سب کے لیے خطرہ

'اے ایم آر' کی بھاری انسانی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اس کے باعث مریضوں کے لیے علاج کے امکانات محدود رہ جاتے ہیں، ہسپتالوں میں ان کا قیام بڑھ جاتا ہے، انہیں متواتر علاج معالجے کی ضرورت پڑی ہے، آمدنی کا نقصان ہوتا ہے، طبی اخراجات بڑھ جاتے ہیں، غربت پھیلتی ہے، خاندان کو نقصان پہنچتا ہے اور لوگوں کو صدمے اور دکھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے زندگیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں اور بعض اوقات مریضوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ سبھی کے ساتھ اور کسی بھی جگہ ہو سکتا ہے۔

'اے ایم آر' کے نتیجے میں معمولی سی چوٹ، معمول کی جراحی یا پھیپھڑوں میں عام انفیکشن بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ سرطان، ایچ آئی وی یا زیابیطس جیسے مریضوں میں ناقابل علاج انفیکشن ان کی زندگی کو لاحق دوسرا بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔

'اے ایم آر' کی وجوہات کیا ہیں؟

کئی عوامل 'اے ایم آر' کے ظہور کی رفتار کو تیز کر سکتے ہیں تاہم، اینٹی بائیوٹکس کا حد سے زیادہ استعمال ان میں خاص طور پر نمایاں ہے۔

جراثیم کش ادویات کا حد سے زیادہ یا غلط استعمال: اینٹی بائیوٹکس کا بے ضرورت استعمال، ڈاکٹروں کی جانب سے بھاری مقدار میں یہ ادویات تجویز کی جانا یا انہیں حسب ضرورت استعمال کیے بغیر چھوڑ دینا جراثیمی مزاحمت کو تقویت دیتا ہے۔

زرعی استعمال: مویشیوں کی بڑھوتری اور انہیں بیماریوں سے بچانے کے لیے اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے سے ان دواؤں کے خلاف مزاحم جراثیم انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔

ناقص صفائی: آبادیوں اور طبی مراکز میں نکاسی آب اور صحت و صفائی کے ناقص انتظام سے بھی ادویات کے خلاف مزاحم جراثیم طاقت پکڑتے اور پھیلتے ہیں۔

عالمگیر سفر و تجارت: بڑے پیمانے پر لوگوں اور اشیا کی نقل و حرکت کے باعث ادویات کے خلاف مزاحم جراثیم باآسانی سرحد پار پہنچ جاتے ہیں۔

نائیجریا کے ایک میڈیکل کالج کی مائیکرو بیالوجی لیبارٹری میں نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
© WHO/Etinosa Yvonne
نائیجریا کے ایک میڈیکل کالج کی مائیکرو بیالوجی لیبارٹری میں نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

'اے ایم آر' کے نقصانات

'اے ایم آر' میں اضافے سے انفرادی و اجتماعی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے لاکھوں لوگوں کی زندگی اور معاشی مستقبل خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ اس سے نظام ہائے خوراک، ترقی اور سلامتی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس طبی مسئلے سے 2030 تک دنیا کو 3.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے اور 2050 تک 28 ملین لوگ غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

'اے ایم آر' کے خلاف عالمگیر اقدام

اچھی خبر یہ ہے کہ 'اے ایم آر' 100 فیصد قابل انسداد ہے۔ بین الاقوامی شراکت داروں نے 2015 میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمگیر اقدام کی منظوری دی تھی اور اس ضمن میں عوامی سطح پر آگاہی کو بڑھایا گیا، جراثیم کش ادویات کے استعمال کو ذمہ دارانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس مسئلے پر مزید تحقیق بھی جاری ہے۔

دنیا بھر میں تمام لوگوں کی طبی خدمات تک رسائی ممکن بنا کر نظام ہائے صحت کو مضبوط کرنے سے جراثیم کش ادویات کی طلب میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں انفیکشن کی روک تھام اور اس پر قابو پانا، حفاظتی ٹیکے لگانا اور پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی (واش) کے پروگراموں کو مضبوط کرنا ضروری ہو گا۔

'ڈبلیو ایچ او' ادویات کے خلاف مزاحم جرثوموں کی نگرانی کرنے کے علاوہ ان کے بارے میں تازہ ترین تحقیقی معلومات فراہم کر رہا ہے۔

'اے ایم آر' پر ادارے کی معاون ڈائریکٹر جنرل ڈاکو یوکیکو ناکاتانی کہہ چکی ہیں کہ 2017 میں Bacterial Priority Pathogens کی فہرست جاری ہونے کے بعد جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے اور بہت سی اینٹی بائیوٹکس بے کار ہو گئی ہیں۔ اس طرح جدید ادویہ کے شعبے میں ہونے والی کئی کامیابیاں ضائع ہو جانے کا خطرہ ہے۔