شہریوں کا تحفظ ہمارا رہنماء اصول ہونا چاہیے، فرانسیسی صدر
فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے دنیا میں پائی جانے والی تقسیم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعتماد کی بحالی اور بحرانوں پر قابو پانے کے لیے موثر کثیرفریقی طریقہ کار کی اب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اعلیٰ سطحی مباحثے میں بدھ کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جولائی میں ان کے ملک میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں اگرچہ دنیا بھر نے جوش و جذبہ دکھایا لیکن اس دوران جنگیں روکنے کی روایت پر کسی نے عمل نہیں کیا۔
روزانہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ منقسم دکھائی دیتی ہے اور عالمی برادری متحد ہو کر مسائل کا مشترکہ حل تلاش کرنے میں ناکام ہو گئی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔
عالمی برادری کی ناکامی
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا اختیار اور اس سے وابستہ امیدوں کو بحال کرنے کے لیے ممالک کے مابین اعتماد کی بحالی ضروری ہے اور مسلح تنازعات میں شہریوں کو تحفظ دینا لازم ہونا چاہیے۔ یوکرین ہو، غزہ یا سوڈان، ہر جگہ لوگوں کو درپیش تکالیف یکساں توجہ کی متقاضی ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں جاری تنازعات نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اطلاق سے متعلق دنیا کی اہلیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ بعض لوگ امن کی خاطر جارحین کے سامنے ہتھیار ڈالنے تجویز دیتے ہیں۔ کیا ایسے تصور کی بھی حمایت کی جا سکتی ہے؟
روس نے بین الاقوامی قانون کے بنیادی ترین اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے یوکرین کے علاقے پر قبضے کی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس نے قانون، اخلاقیات اور وقار کی سنگین پامالی کا ارتکاب کیا ہے۔ یوکرین کا مقدر یورپ سمیت پوری دنیا میں امن و سلامتی سے نتھی ہے کیونکہ اگر روس کو جارحیت کی کھلی چھوٹ دے دی جائے تو دوسرے ممالک خود کو اپنے مضبوط ترین، متشدد اور انتہائی لالچی ہمسایوں کے سامنے کیسے محفوظ سمجھیں گے؟
ایمانویل میکرون نے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کو اپنے دفاع میں مدد دینے کے لیے ضروری سازوسامان کی فراہمی جاری رکھے گا اور روس کے خلاف اس کی غیرمعمولی مزاحمت کی حمایت کرتا رہے گا۔
غزہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ
فرانس کے صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے شہریوں کا تحفظ کرنے اور حماس کو دوبارہ حملے سے باز رکھنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن غزہ میں اس کی جگہ بہت طویل ہو چکی ہے جس میں بہت سے بے گناہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ جنگ جلد از جلد بند ہونی چاہیے، یرغمالیوں کو رہا ہونا چاہیے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد پہنچائی جانی چاہیے۔
عالمی برادری اس مسئلے کے دو ریاستی حل تک پہنچنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے تاکہ اس تنازع کو علاقائی سطح پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ لبنان کے ساتھ کشیدگی کا خاتمہ کرے اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر میزائل برسانا بند کرے۔ حزب اللہ کے مددگار ممالک کو چاہیے کہ وہ اسے اسلحہ فراہم نہ کریں۔ لبنان میں جنگ نہیں ہونی چاہیے اور دنیا اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
ویٹو اختیار محدود کرنے کی تجویز
ایمانویل میکرون نے کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد میں اضافے کی حمایت کی ہے۔ جرمنی، جاپان، انڈیا اور برازیل کو بھی کونسل کی مستقل رکنیت ملنی چاہیے اور اس میں افریقہ سے بھی دو ممالک کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں کونسل کے غیرمستقل ارکان کی تعداد کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات بھی کونسل کو موثر بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔ اس مقصد کے لیے ادارے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانا ہو گی، ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے گئے جرائم پر ویٹو کا اختیار محدود کرنا ہو گا اور قیام امن کے لیے عملی فیصلوں پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے موثر اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔