انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل قیام امن کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے، گوتیرش

جنوبی سوڈان میں تعینات ویتنام سے تعلق رکھنے والی امن کاروں کا ایک دستہ۔
UNMISS
جنوبی سوڈان میں تعینات ویتنام سے تعلق رکھنے والی امن کاروں کا ایک دستہ۔

سلامتی کونسل قیام امن کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہےکہ دنیا میں امن خود بخود نہیں آتا۔ سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنازعات کے دوران جامد حالات میں موثر قیادت کا مظاہرہ کرے اور ممالک کو متحد کرنے کے بہتر طریقے ڈھونڈے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات 'امن کے لیے موثر قیادت' کے موضوع پر سلامتی کونسل میں ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے موقع پر کہی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ممالک کو مستقبل کے معاہدے میں تجویز کردہ اصلاحات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے کہا۔ اس معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 22 ستمبر کو منعقدہ مستقبل کی کانفرنس کے دوران عمل میں آئی تھی۔

Tweet URL

منقسم نہیں، متحدہ کونسل

عالمی رہنماؤں اور دنیا بھر سے آنے والے وزرا سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج اور بداعتمادی کے ساتھ عدم احتساب بھی بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو متواتر پامال کیا جا رہا ہے۔

قیادت برائے امن کا مطلب سلامتی کونسل کا بامعنی کردار یقینی بنانا ہے تاکہ دنیا میں کشیدگی کم ہو اور تنازعات کو حل کیا جا سکے جن کے باعث کروڑوں لوگوں کو بے پایاں تکالیف کا سامنا ہے۔

انہون نے کہا کہ متحدہ سلامتی کونسل قیام امن میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتی ہے جو منقسم کونسل کے لیے ممکن نہیں۔ رکن ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہم اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں کیونکہ ویٹو اختیار کے حامل کونسل کے مستقل ارکان کے مابین اختلافات کا نتیجہ بے عملی کی صورت میں نکلتا ہے۔

قیام امن میں کامیابیاں

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ غزہ اور یوکرین کی جنگوں کا خاتمہ کرنے میں ناکامی کے باوجود اقوام متحدہ کے ارکان نے متفقہ طور پر کئی موثر اقدامات بھی کیے ہیں۔ ان میں قیام امن کے لیے دنیا بھر میں کام کرنے والے 11 مشن بھی شامل ہیں جن میں 70 ہزار اہلکار خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ افریقن یونین کے زیرقیادت کارروائیوں کے لیے تاریخی قرارداد کی منظوری بھی ایسا ہی اقدام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ امن ممکن ہے اور غزہ، یوکرین اور سوڈان میں بھی ایسے ہی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امن کی جانب پیش رفت کی واحد امید کا دارومدار کونسل کے ارکان کے مابین تعاون اور اتحاد پر ہے۔ تمام ارکان کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں، اقوام متحدہ کے چارٹر کی مطابقت سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل یقینی بنائیں اور کونسل کی ناکامی بجائے اس کی کامیابی میں حصہ ڈالیں۔