پاکستان: بچوں کی فلاح پر یو این اداروں کا بینظیر پروگرام کے ساتھ معاہدہ
اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پاکستان میں بچوں کے لیے غذائی تحفظ یقینی بنانے اور انہیں پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں مدد فراہم کریں گے۔
دونوں اداروں نے اس ضمن میں بالترتیب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بینظیر نشوونما پروگرام کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
یونیسف کے ساتھ معاہدے کے تحت بچوں کو غذائی قلت سے بچانے اور ماں بچے کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ معاہدے میں ضلعی سطح پر قائم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں (ڈی ایچ کیو) میں سٹیبلائزیشن مراکز کو مدد دی جائے گی جو پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے لیے خصوصی دیکھ بھال فراہم کریں گے۔
ان معاہدوں پر بینظیر انکم پروگرام کے سیکرٹری عامر علی احمد، پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فاضل اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈپینگ نے دستخط کئے۔
اہم طبی شراکت
اس موقع پر عبداللہ فاضل نے کہا کہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو غذائیت اور سماجی تحفظ کے پروگراموں میں ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ یونیسف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ مل کر پاکستان میں زچہ بچہ اور نوعمر بچوں کو غذائی تحفظ کی فراہمی کے لیے حکومتی کوششوں کی حمایت کے عزم کو واضح کرتا ہے۔
لوو ڈپینگ کا کہنا تھا کہ اس شراکت کا مقصد پاکستان میں شدید غذائی قلت کا شکار 75 ہزار بچوں کو طبی پیچیدگیوں کے علاج کی فراہمی اور بچوں میں نشوونما کے مسائل سے نمنٹے کیلے ماں کے دودھ کی اہمیت کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام بڑھوتری کے مسائل سے نمٹنے اور ملک بھر میں کمزور بچوں اور خاندانوں کو مدد فراہم کرے گا۔
حکومت کا عزم
اس موقع پر پاکستانی سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے ان معاہدوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی شراکت سے ملک بھر میں پسماندہ طبقات کو صحت اور غذائیت فراہم کرے گی۔ اس سلسلے میں حالیہ معاہدوں کے ذریعے متاثر کن نتائج حاصل ہوں گے اور لوگوں کی زندگیوں میں دیرپا تبدیلی آئے گی۔
بینظیر انکم پروگرام کے سیکرٹری عامر علی احمد نے کہا کہ یہ پروگرام کے لیے ایک تاریخی لمحہ اور ملک میں ضرورت مند افراد کی فلاح و بہبود کو مزید بہتر بنانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ یونیسیف اور ڈبلیو ایچ او کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ وہ تمام لوگ اس تعاون سے مستفید ہو سکیں جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔