انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اربوں لوگوں کے تحفظ کے لیے اونچی ہوتی سطح سمندر کو روکنا ہوگا، گوتیرش

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے شمال میں ایک مسجد جزوی طور پر پانی میں ڈوب گئی ہے (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Arimacs Wilander
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے شمال میں ایک مسجد جزوی طور پر پانی میں ڈوب گئی ہے (فائل فوٹو)۔

اربوں لوگوں کے تحفظ کے لیے اونچی ہوتی سطح سمندر کو روکنا ہوگا، گوتیرش

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو بڑھتی سطح سمندر سے تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ اربوں لوگوں کی امیدوں اور خواہشات کو غرقاب ہونے نہیں دیا جا سکتا۔

سطح سمندر میں اضافے سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے معاملے پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کو سمندر سے خطرہ لاحق ہے۔ سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ سمندری پانی کی سطح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کی گزشتہ تین ہزار سال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ آج عالمی رہنماؤں کے فیصلے ہی مستقبل میں بڑھتی سطح سمندر کی وسعت، رفتار اور اثرات کا تعین کریں گے۔

یہ اجلاس اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد ہو رہا ہے۔ اس میں مصر، تیونس، یمن، مراکش، بحرین، اومان، کویت، جبوتی، قطر، شام اور سعودی عرب سمیت بہت سے عرب ممالک شریک ہیں۔

ساحلی علاقوں کے لیے خطرہ

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا میں 900 ملین لوگ نشیبی ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں اور سطح سمندر میں اضافہ ان کے لیے بہت بڑی مصیبتیں لائے گا۔ اس سے ماہی گیری، زراعت اور سیاحت جیسے شعبے بری طرح متاثر ہوں گے۔

سطح سمندر میں اضافے سے مزید شدید سمندری طوفان آئیں گے، ساحلی علاقوں کی زمین سمندر برد ہوتی جائے گی، ساحل سیلاب کی زد میں ہوں گے، پانی آلودہ ہو جائے گا، فصلیں تباہ ہو جائیں گی، بنیادی ڈھانچے، حیاتیاتی تنوع اور معیشتوں کو نقصان پہنچے گا۔

بڑھتی حدت کا مسئلہ

انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں غریب ترین اور انتہائی غیرمحفوظ اور کمزور لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ امیر ممالک بھی اس صورتحال سے برابر متاثر ہوں گے۔ اگر سمندری سطح میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید بدترین حالات دیکھنے کو ملیں گے۔

بڑھتی سطح سمندر نے پورے کے پورے جزائر کو غرقاب کر دیا ہے اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگ تباہ ہو گئے ہیں کیونکہ زمین ناقابل رہائش ہوتی جا رہی ہے اور اسے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے ٹھوس اقدامات سے ہی سطح سمندر میں اضافے کو روکا جا سکتا ہے اور اس مسئلے سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات ہی لوگوں کو چڑھتے پانیوں سے تحفظ دے سکتے ہیں۔

مستقبل کی کانفرنس میں پیش رفت

سیکرٹری جنرل نے اجلاس کے شرکا سے کہا کہ 80 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی ذمہ داری جی 20 ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کی قیادت کرنا ہو گی اور معدنی ایندھن کی پیداوار اور صرف میں کمی لا کر عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود رکھنے کے ہدف کو قابل رسائی بنانا ہو گا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی آئندہ موسمیاتی کانفرنس (کاپ 29) میں ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق ٹھوس فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دولت مند ممالک کے لیے موسمیاتی انصاف کی جانب قدم بڑھانے کے لیے نقصان اور تباہی کے فنڈ میں خاطرخواہ حصہ ڈالنا لازمی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے موقع پر مستقبل کی کانفرنس میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے اور اس رفتار کو آئندہ برس سماجی ترقی کی عالمی کانفرنس اور مالیات برائے ترقی کانفرنس میں بھی برقرار رکھنا ہو گا۔