انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ بحران میں اسرائیلی حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب، ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی نرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
ایران کے صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی نرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

غزہ بحران میں اسرائیلی حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب، ایرانی صدر

اقوام متحدہ کے امور

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں دنیا نے اسرائیلی حکومت کا اصل چہرہ دیکھا جس نےگیارہ ماہ میں خواتین اور بچوں سمیت 41 ہزار بے گناہ فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں عام مباحثے سے منگل کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان کے خلاف بھی بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے جسے فوری طور پر روکا نہ گیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایرانی سائنس دانوں، سفارت کاروں اور اس کے مہمانوں کو بھی ہلاک کیا ہے۔ ان کے ملک نے ایسے لوگوں کی تحاریک آزادی کی حمایت کی ہے جنہیں اسرائیلی حکومت کے جرائم اور استعماریت کا سامنا ہے۔ ایران دنیا بھر کے ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اسرائیلی مظالم کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ ان کا ملک انسانیت کے خلاف اسرائیل کے جرائم کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تشدد کو فوری طور پر بند کرائے اور غزہ میں مستقل جنگ بندی یقینی بنائے۔

عالمگیر سلامتی

مسعود پزشکیان نے کہا کہ انہوں نے اصلاحات، ہمدردی اور تعمیری عالمی رابطوں کے وعدوں کو لے کر اپنی انتخابی مہم چلائی اور وہ خود پر اعتماد کرنے پر ایران کے شہریوں کو تکریم پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کو ایک نئے دور میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں وہ تبدیل ہوتے عالمی نظام میں موثر اور تعمیری کردار ادا کر سکے۔ ان کا مقصد موجودہ رکاوٹوں اور مسائل سے نمٹنا اور اپنے ملک کے خارجہ تعلقات کو دور حاضر کی ضرورتوں اور حقیقتوں کے مطابقت ترتیب دینا ہے۔

انہوں نے دنیا کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے مواقع اور تعاون پر مبنی نئے نمونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا میں کوئی ملک دوسروں کی سلامتی کو کمزور کر کے خود محفوظ نہیں رہ سکتا۔

جوہری معاہدے پر تعاون

ایران کے صدر نے 2015 کے جوہری معاہدے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) کے تحت ان کے ملک نے اپنے حقوق کے اعتراف اور پابندیاں اٹھانے کے عوض اپنے جوہری پروگرام کی اعلیٰ درجے کی نگرانی پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری خطروں بھرا سیاسی طریقہ کار تھی جس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے اور ایران کے بے گناہ شہریوں پر یکطرفہ پابندیوں سے ملک کی معیشت کمزور ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس معاہدے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر مکمل اور نیک نیتی سے عمل ہو تو دیگر معاملات پر بات چیت بھی شروع ہو سکتی ہے۔

پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے نئے دور میں داخل ہونے کا موقع موجود ہے جس میں ایران کے اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اعتراف ہو اور باہمی مسائل پر ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے۔

پابندیوں کے تباہ کن اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بامعنی معاشی، سماجی، سیاسی اور دفاعی شراکتوں کو تقویت دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران کی جانب سے اس پیغام کا جواب مزید پابندیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کے بجائے یہ پابندیاں ختم کر کے ایران کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور مزید مفید معاہدوں کی بنیاد ڈالی جانی چاہیے۔