انسانی کہانیاں عالمی تناظر

لبنان کشیدگی: غزہ کی صورتحال سے کچھ نہیں سیکھا گیا، یو این ادارے

پانچ سالہ ایک بچہ جنوبی لبنان کے ایک تباہ حال رہائشی علاقے میں کھیل رہا ہے (فائل فوٹو)۔
© UNICEF/Ibarra Sánchez
پانچ سالہ ایک بچہ جنوبی لبنان کے ایک تباہ حال رہائشی علاقے میں کھیل رہا ہے (فائل فوٹو)۔

لبنان کشیدگی: غزہ کی صورتحال سے کچھ نہیں سیکھا گیا، یو این ادارے

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں 2006 کے 'تاریک ایام' دوبارہ دیکھنے کو مل سکتے ہیں جہاں اسرائیل کے حالیہ حملوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ملک میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی نائب نمائندہ ایٹی ہیجنز نے کہا ہے کہ اگر تشدد کا خاتمہ نہ ہوا تو اس کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔ کشیدگی میں مزید اضافہ لبنان کے بچوں کے لیے تباہ کن ہو گا۔ خاص طور پر جنوبی علاقوں کے قصبوں اور دیہات میں رہنے والے لوگوں اور مشرقی علاقے بیکا کی آبادی پر اس کے سنگین اثرات ہوں گے جو اپنا گھر بار چھوڑںے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

Tweet URL

حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری کے جواب میں سوموار کو لبنان پر اسرائیل نے جوابی حملے کیے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 492 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں 35 بچے اور 58 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 1,645 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

شہریوں کی نقل مکانی

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین شدید کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے کہا ہے کہ وہ تشدد بند کریں اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

منگل کو لبنان بھر میں سکول بند رہے اور بچوں کو خوف کے باعث گھروں میں رہنا پڑا۔ نقل مکانی کرنے والے لوگ خالی ہاتھ محفوظ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہیں پناہ دینے والے لوگ بھی غیریقینی حالات سے خوفزدہ ہیں۔

یونیسف نے بے گھر لوگوں کے لیے جنوبی علاقوں، دارالحکومت بیروت، کوہ لبنان، بالبک، ہرمل، بیکا اور شمالی علاقوں میں 87 پناہ گاہیں بنائی ہیں لیکن نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔

انسانی قانون کے احترام کا مطالبہ

روینہ شمداسانی نے تشدد میں غیرمعمولی اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا گزشتہ ایک سال سے غزہ میں جاری حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا؟

انہوں نے گزشتہ ہفتے لبنان میں پیجر دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں بہت سے لوگوں کی آنکھیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ ہسپتالوں میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے علاج معالجے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ عام بات نہیں ہے اور اس تشدد کو اب بند ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کشیدگی میں فوری کمی لانے کو کہا ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جہاں دنیا بھر کے رہنماؤں کو یہ تنازع ختم کرانا اپنی ترجیح بنانا ہو گی۔

انہوں نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر اندھا دھند راکٹ حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تنازع کے تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔

خوف، دہشت اور افراتفری

روینہ شمداسانی نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے شہریوں کو حزب اللہ کے اسلحہ کے ذخائر سے دور رہنے کے پیغامات بھیجے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیغامات جاری کرتے ہوئے یہ فرض کیا گیا ہے کہ لوگوں کو ایسی عمارتوں کا علم ہو گا جہاں اسلحہ چھپایا گیا ہے۔ ایسے پیغام شہریوں میں خوف، دہشت اور ابتری پھیلانے کے مترادف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر شہریوں کو حملوں سے پہلے خبردار کر دیا جائے تو اس سے انہیں تحفظ دینے کی ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی۔ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے احترام کا معاملہ ہے جس کے تحت متحارب فریقین شہریوں کو جنگ کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے پابند ہیں۔