اردوان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ
ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے مقصد کی تکمیل میں ناکام ہو گیا ہے اور بتدریج ایک غیرفعال ادارہ بنتا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اعلیٰ سطحی مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے حوالے سے کہا کہ دنیا محض انہی ممالک پر مشتمل نہیں ہے اور عالمگیر انصاف کو ان چند ممالک کی خواہش پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں ایک سال سے جاری اسرائیلی حملوں میں 41 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ علاقہ دنیا میں خواتین اور بچوں کا سب سے بڑا قبرستان بن گیا ہے۔ سچائی دم توڑ رہی ہے اور مزید منصفانہ دنیا کے لیے انسانیت کی امیدیں مرتی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں سلامتی کونسل کب تک خاموش تماشائی بنی رہے گی۔
فسلطینیوں کے تحفظ کا مطالبہ
طیب اردوان نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں ایسے ملک کی نمائندگی نہیں کر رہے جو کشیدگی سے دور واقع ہے بلکہ اس کے چاروں جانب تناؤ اور جنگ کا ماحول ہے۔
انہوں نے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہر موقع پر بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا، بین الاقوامی قانون کو پاؤں تلے روندا، نسلی بنیادوں پر قتل عام کیا، ایک قوم کی واضح طور پر نسل کشی اور اس کی زمین پر قدم بہ قدم قبضے کا مرتکب ہو رہا ہے۔
’نیتن یاہو کو روکنے کی ضرورت‘
انہوں نے کہا کہ 70 سال پہلے جس طرح ہٹلر کو انسانیت کے اتحاد کے ذریعے روکا گیا تھا اسی طرح بنجمن نیتن یاہو (اسرائیل کے وزیراعظم) اور اس کے قاتلانہ نیٹ ورک کو انسانیت کے اتحاد کے ذریعے روکنا ہو گا۔
ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ 'ہم اسرائیل کے لوگوں کے دشمن نہیں ہیں اور یہود مخالفت کو اسی طرح مسترد کرتے ہیں جس طرح مسلمانوں کو ان کے عقیدے کی بنا پر ہدف بنائے جانے کے مخالف ہیں'۔
انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ کا طریقہ کار وضع کرے۔ ان کا ملک دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر خاندانوں اور انسانوں کے تحفظ کی کوششیں جاری رکھے گا۔