ہتھیاروں کی بجائے امن اور خوشحالی پر توجہ دیں، فائلیمن یانگ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسلحے کے ڈھیر جمع کرنے کے بجائے اپنے لوگوں کے لیے امن اور ان کی بہبود کی خاطر مشترکہ اقدامات پر توجہ دیں۔
جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں اعلیٰ سطحی مباحثے کے آغاز پر افتتاحی خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے یوکرین اور ہیٹی سے سوڈان تک دنیا مسلح تنازعات میں گھری ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں موت، تباہی اور لوگوں کی بے پایاں تکالیف کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال سے غزہ کے لوگ اور اسرائیل جنگ اور انتقام کے موذی چکر میں پھنسے ہیں۔ اس جنگ کو فوری طور پر روکنے اور تمام یرغمالیوں کی غیرمشروط رہائی کی ضرورت ہے۔
فائلیمن یانگ نے تنازع کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر مسئلے کا منصفانہ و دیرپا حل نکالیں اور دونوں جانب کے شہریوں کے وقار کا تحفظ یقینی بنائیں۔
مصمم ارادے کی ضرورت
جنرل اسمبلی کے صدر نے خبردار کیا کہ دنیا مستقبل قریب میں صنفی مساوات کے ہدف کو حاصل کرتی دکھائی نہیں دیتی، انسانی حقوق کے تحفظ کی صورتحال پریشان کن ہےاور لاکھوں لوگ غربت کے شکجے میں جکڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحرانوں میں خاموش تماشائی بنے رہنا درست نہیں ہو گا جبکہ دنیا ان پر قابو پانے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔
فائلیمن یانگ نے کہا کہ براعظم افریقہ اقوام متحدہ کی ترجیح ہے اور سبھی کو افریقہ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
مشکل لیکن ناممکن نہیں
اپنے خطاب کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی راہ کٹھن اور مشکلات سے بھری ہے اور بہت سے کام بظاہر ناممکن دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ اگر دنیا باہم متحد ہو کر جرات اور مصمم ارادے سے کام کرے تو اس کے پاس ان مسائل پر قابو پانے کے لیے درکار ذرائع، علم اور اجتماعی عزم موجود ہے۔