انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا کو درپیش مسائل اور عدم استحکام کا خاتمہ عالمی تعاون کا متقاضی، گوتیرش

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Loey Felipe
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے 79ویں سالانہ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے ہیں۔

دنیا کو درپیش مسائل اور عدم استحکام کا خاتمہ عالمی تعاون کا متقاضی، گوتیرش

اقوام متحدہ کے امور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا کو درپیش بڑے مسائل پر قابو پانے کی خاطر عدم احتساب، بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور غیریقینی حالات سے نمٹنا اور اس مقصد کی خاطر بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہو گا۔

انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اعلیٰ سطحی مباحثے کے آغاز سے قبل اقوام متحدہ کے سالانہ کام سے متعلق اپنی رپورٹ کے تناظر میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی حالت گرداب میں پھنسی کشتی جیسی ہے جسے ایسے مسائل کا سامنا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ارضی۔ سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے، جنگیں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں، موسمیاتی تبدیلی کرہ ارض اور اس پر بسنے والے انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے جبکہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کئی طرح کے سنگین مسائل کا سبب بن رہا ہے۔

مستقبل کی راہ پر 3 رکاوٹیں

انہوں نے کہا کہ دنیا ناپائیدار راستے پر چل رہی ہے اور مستقبل کی جانب سفر اس طرح جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ اس وقت انسانیت کو درپیش مسائل قابل حل ہیں لیکن اس مقصد کے لیے ایسا بین الاقوامی طریقہ کار درکار ہے جس کے ذریعے یہ مسائل واقعتاً حل ہو سکیں۔ مستقبل کی کانفرنس اس سمت میں پہلا قدم تھا تاہم یہ راستہ طویل ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے تین بڑی رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا جو عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بین الاقوام قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالیوں پر عدم احتساب کا رحجان پہلی رکاوٹ ہے۔

اس کے بعد انہوں نے عدم مساوات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ناانصافی اور محرومیاں ممالک کو کمزور کرتی اور انہیں مزید پستی میں دھکیل دیتی ہیں۔

انہوں نے غیریقینی حالات کو تیسری رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ عالمگیر ترقی و استحکام کو لاحق خدشات پر موثر طور سے قابو نہ پانے کے نتیجے میں مستقبل کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

عدم احتساب

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالیوں پر عدم احتساب کی موجودہ صورتحال سیاسی طور پر ناقابل دفاع اور اخلاقی اعتبار سے ناقابل قبول ہے۔ بہت سی حکومتیں اور دیگر کردار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کو پاؤں تلے روند سکتے ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کر سکتے ہیں اور انسانی حقوق سے متعلق معاہدوں یا عالمی عدالتوں کے فیصلوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی کھلی پامالیوں کی مذمت کی جو اب عام ہوتی جا رہی ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے ممالک پر زور دیا کہ وہ اس قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے اپنی وابستگی کی توثیق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم احتساب مشرق وسطیٰ، یورپ کے وسط میں، شاخ افریقہ میں اور ہر جگہ موجود ہے۔

انہوں نے یوکرین کی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس کی قیمت بے گناہ شہری چکا رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر مںصفانہ امن یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

غزہ کا بحران

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ غزہ کے حالات سے پورے مشرق وسطیٰ کو خطرات لاحق ہیں۔ اب لبنان میں بھی غزہ جیسی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات ہیں جبکہ لبنان، اسرائیل اور دنیا کے لوگ اس ملک کو ایک اور غزہ بنتا دیکھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرد حملوں اور لوگوں کو یرغمال بنانے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا اور اسی طرح فلسطینی لوگوں کو اجتماعی سزا دینا بھی جائز نہیں ہے۔سیکرٹری جنرل کے عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے کبھی کہیں غزہ جیسی رفتار اور حجم کی تباہی نہیں دیکھی جبکہ علاقے میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے 200 سے زیادہ لوگ بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) اور غزہ کے تمام امدادی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا جو انتہائی مشکل حالات کے باوجود اپنا کام کر رہے ہیں۔

دو ریاستی حل کا متبادل کیا؟

انتونیو گوتیرش نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی اور مسئلے کے دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس پیش رفت کے لیے اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ جو عناصر فلسطینی علاقوں میں مزید آبادیوں، زمینوں پر قبضے اور اشتعال انگیزی کے ذریعے دو ریاستی حل کے امکان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس اس کا متبادل کیا ہے؟ دنیا ایسی واحد ریاست کو کیسے قبول کرے گی جس میں اس قدر بڑی تعداد میں فلسطینی لوگ آزادی، حقوق یا وقار کے بغیر رہتے ہوں گے؟

سیکرٹری جنرل نے سوڈان کی صورتحال اور وہاں اقتدار کے لیے جاری وحشیانہ لڑائی کا تذکرہ بھی کیا جس میں شہریوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان میں قحط پھیل رہا ہے اور انسانی تباہی جنم لے رہی ہے جبکہ حصول امن کے لیے متفقہ طریقہ کار کی غیرموجودگی میں بیرونی طاقتیں ملک میں مداخلت کر رہی ہیں۔

عدم مساوات کا مسئلہ

سیکرٹری جنرل نے دنیا میں پھیلتی عدم مساوات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ۔19 وبا کے بعد امیر اور غریب میں فرق غیرمعمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔ دنیا تاحال اس وبا کے نتیجے میں بدترین صورت اختیار کرنے والی عدم مساوات سے بحال نہیں ہو پائی۔ دنیا کے 75 غریب ترین ممالک کی حالت پانچ سال پہلے کے مقابلے میں انتہائی خراب ہے جبکہ اسی عرصہ میں دنیا کے پانچ امیر ترین افراد کی دولت میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے ترقی پذیر ممالک کو بہتر طور سے مدد فراہم کرنے کی غرض سے عالمی مالیاتی اداروں میں بنیادی اصلاحات اور صنفی مساوات یقینی بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنفی بنیاد پر تفریق اور استحصال معاشروں میں عدم مساوات کی عام ترین اقسام ہیں۔ انہوں نے ایسے ممالک کا تذکرہ بھی کہا جہاں قوانین کو تولیدی صحت اور حقوق کو سلب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے افغانستان کا بطور خاص نام لیا جہاں ایسے قوانین سے خواتین اور لڑکیوں کو منظم جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں ںے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سالہا سال تک صنفی مساوات کے بارے میں ہونے والی بہت سی باتوں کے باوجود اعلیٰ سطحی مباحثے میں خطاب کرنے والے رہنماؤں میں خواتین کی تعداد 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

موسمیاتی تبدیلی

انتونیو گوتیرش نے موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کے وجود کو لاحق خطرے پر بات کرتے ہوئے ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری کی حد میں رکھنے کے ہدف کی مطابقت سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پرعزم منصوبہ بندی کریں۔

انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی منصفانہ اور مشمولہ ہونی چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد یقینی بنائیں۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی تیزرفتار ترقی کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بین الاقوامی ضابطے کی عدم موجودگی میں یہ ٹیکنالوجی تقسیم اور عدم مساوات کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔