انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کانفرنس برائے مستقبل کا جوش برقرار رکھیں، صدر یو این جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر فائلیمن یانگ ’کانفرنس برائے مستقبل‘ کے اختتام کا رسمی اعلان کر رہے ہیں۔
UN WebTV image
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر فائلیمن یانگ ’کانفرنس برائے مستقبل‘ کے اختتام کا رسمی اعلان کر رہے ہیں۔

کانفرنس برائے مستقبل کا جوش برقرار رکھیں، صدر یو این جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کے امور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل کی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیصلہ اقدامات کی جانب پیش رفت کو برقرار رکھیں۔

سوموار کی شام کانفرنس کے اختتامی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس موقع پر جن خیالات کا تبادلہ ہوا ہے ان کی بدولت قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر مزید اقدامات شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

Tweet URL

فائلیمن یانگ نے مندوبین سے کہا کہ وہ غربت، بھوک اور جنگوں، تشدد اور محرومی کا شکار لوگوں کی تکالیف سے صرف نظر نہ کریں۔ آنے والی ان نسلوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جن کے لیے بہتر دنیا کی تخلیق موجودہ نسلوں پر قرض ہے۔

22 ستمبر کو کانفرنس کے پہلے روز متفقہ طور پر منظور کیے جانے والے مستقبل کے معاہدے میں تمام ممالک نے دنیا کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے لیے نئی سمت بندی کا عہد کیا ہے۔

پرامن، منصفانہ اور مستحکم مستقبل

فائلیمن یانگ نے مستقبل کے معاہدے اور اس سے منسلک ڈیجیٹل معاہدے اور نئی نسلوں کے لیے اعلامیے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی جانب پیش رفت تیز کرنے اور مزید پرامن، منصفانہ اور مستحکم مستقبل تعمیر کرنے کے وعدوں کا اظہار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کانفرنس پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے، ادیس ابابا ایکشن ایجنڈا اور موسمیاتی تبدیلی پر پیرس معاہدے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے جاری کوششوں میں ایک نمایاں قدم ہے۔

عالمی مسائل پر بات چیت

دو روزہ کانفرنس کے موقع پر حکومتوں کے سربراہوں، اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی حکام اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کے مابین کئی طرح کی متعامل بات چیت کے ادوار بھی ہوئے۔ ان مواقع پر معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر مزید گفت و شنید ہوئی۔

اس دوران زیربحث رہنے والے موضوعات میں کثیر فریقی ترقیاتی بینکوں اور خود اقوام متحدہ سمیت پرانے بین الحکومتی اداروں کو بہتر بنانا، سلامتی کونسل میں اصلاحات لانا، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات کو محدود رکھتے ہوئے ان کے پیش کردہ امکانات سے کماحقہ فائدہ اٹھانا اور غربت و عدم مساوات کا خاتمہ کرنا خاص طور پر نمایاں تھے۔

بحر الکاہل میں جزائر پر مشتمل ملک تووالو کے نائب وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش باہم مربوط مسائل پر تفصیلی بات کی۔ انہوں نے سمندروں کو تحفظ دینے اور جزائر پر مشتمل ممالک پر قرض کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان ممالک کی مدد نہ کی گئی تو وہ قرضوں میں ڈوب جائیں گے یا سمندر انہیں ڈبو دے گا۔