انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں 1.3 ارب نوعمر افراد ذہنی مسائل کا شکار، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے طبی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی سے ان کی صحت و زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
© UNICEF/Giacomo Pirozzi
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے طبی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی سے ان کی صحت و زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

دنیا میں 1.3 ارب نوعمر افراد ذہنی مسائل کا شکار، عالمی ادارہ صحت

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہر سات نوعمر افراد میں سے کم از کم ایک ذہنی مسائل کا شکار ہے اور دنیا بھر میں ایسے 1.3 ارب نوجوانوں کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مستقبل کی کانفرنس کے دوران 'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ذہنی مسائل اور جنسی بیماریوں کے علاج تک رسائی نہیں رکھتی۔ اس سے ناصرف ان کی زندگی بلکہ معاشرتی بہبود اور معیشتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Tweet URL

رپورٹ کے اجرا پر 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس کا کہنا ہے کہ نوعمر افراد میں ذہنی، جنسی اور تولیدی صحت کے مسائل پر قابو پانے میں ناکامی کے سنگین اور ان لوگوں کی زندگی کے لیے خطرناک نقصانات ہوں گے۔ معاشروں کو بھی اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی جس سے بچنے کے لیے حکومتوں کا اس مسئلے سے نمٹںے کے لیے سرمایہ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ نوعمر لڑکیوں میں خون کی کمی بھی عام ہے جبکہ 2010 سے اب تک اس صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ علاوہ ازیں، دنیا بھر میں نوجوانوں کی 10 فیصد تعداد موٹاپے کا شکار ہے جس سے ان کی صحت و زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔

جنسی بیماریوں میں اضافہ

ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ نوجوانوں میں آتشک، پیشاب کی نالی میں سوزش، جنسی اعضا کا ورم اور کھجلی جیسے امراض بھی عام ہیں۔ اگر ان بیماریوں کا علاج نہ ہو تو یہ طویل مدتی طبی مسائل کا باعث بنتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے بہت سے حصوں میں صنفی مساوات اور انسانی حقوق کے حوالے سے مخالفانہ رویوں اور پالیسیوں کے باعث نوجوانوں کی جنسی و تولیدی صحت کی سہولیات اور جنسی تعلیم تک رسائی نہیں ہوتی۔ جنسی معاملات کے حوالے سے عمر کی مخصوص حد سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے نوجوان ضروری طبی خدمات سے محروم رہتے ہیں۔ ان میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں اور ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔

بلوغت کا مرحلہ

'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ بلوغت انسانی بڑھوتری میں ایک منفرد اور اہم مرحلہ ہوتا ہے جب کوئی فرد نمایاں جسمانی، جذباتی اور سماجی تبدیلیوں سے گزرتا ہے اور اسی دور میں اچھی صحت کی طویل مدتیں بنیادیں قائم ہوتی ہیں۔ دنیا کو بہتر مستقبل دینے کے لیے نوجوانوں کی صحت اور حقوق کو تحفظ دینا ضروری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے طبی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی سے ناصرف ان کی صحت و زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے بلکہ اس سے بڑے پیمانے پر معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔

'زچہ بچہ اور نوعمر بچوں کی صحت پر شراکت' کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راجت کھوسلہ کا کہنا ہے کہ جب نوجوان اپنی بہبود اور مستقبل کا ایجنڈا تشکیل دینے کے قابل ہوں تو وہ اچھائی کی طاقتور اور تخلیقی قوت بن جاتے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی آواز سنیں اور انہیں اپنے فعال شراکت دار اور فیصلہ سازوں کی حیثیت سے جگہ دیں۔