انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین جنگ میں جسمانی تشدد کا استعمال معمول، تحقیقاتی کمیشن

یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ایرک موس انسانی حقوق کونسل کو اپنی تحقیقات سے آگاہ کر رہے ہیں۔
UN Photo/Jean Marc Ferré
یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ایرک موس انسانی حقوق کونسل کو اپنی تحقیقات سے آگاہ کر رہے ہیں۔

یوکرین جنگ میں جسمانی تشدد کا استعمال معمول، تحقیقاتی کمیشن

انسانی حقوق

یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے کہا ہے کہ ملک میں جاری جنگ میں تشدد ایک عام اور قابل قبول عمل بن چکا ہے اور روس کے حکام بلا خوف و خطر اس ہتھکنڈے سے کام لے رہے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ ایرک موس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا ہے کہ روس کے حکام کی جانب سے اپنے ملک کی حدود میں اور یوکرین کے زیرقبضہ علاقوں میں شہریوں اور جنگی قیدیوں پر تشدد کے نئے واقعات سامنے آئے ہیں۔ مرد قیدیوں پر جنسی تشدد اور روس کے زیرقبضہ دیہات میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شہادتیں بھی موصول ہوئی ہیں۔

Tweet URL

تین رکنی کمیشن فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے سے فوری بعد تشکیل دیا گیا تھا جو اس سے پہلے بھی روس کے قابض حکام کی جانب سے بڑے پیمانے پر اور منظم تشدد کی اطلاعات دے چکا ہے۔

بلاخوف و خطر تشدد

کمیشن نے یوکرین کے سابق قیدیوں کے بیانات کو بھی اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے جنہوں نے بتایا کہ انہیں دوران قید وحشیانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اعلیٰ سطحی حکام نے اسے روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہ کی۔

مثال کے طور پر یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں واقع ایک حراستی مرکز میں آنے والے ایک روسی افسر نے قیدیوں سے کہا کہ وہ ہر ایک کو توڑ چکے ہیں اور انہیں بھی توڑ دیں گے۔ مزید برآں، بیشتر حراستی مراکز میں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں جبکہ ایک جگہ معالجین نے بھی قیدیوں پر تشدد میں حصہ لیا۔

کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ روس کی حدود میں اور یوکرین پر اس کے زیرقبضہ علاقوں میں یہ تشدد ایک ہی انداز میں اور منظم طور سے جاری ہے۔

طبی امداد سے محرومی

ایرک موس نے کونسل کو بتایا کہ 29 جولائی 2022 کو وولنوواخا حراستی مرکز میں ہونے والے دھماکے میں یوکرین سے تعلق رکھنے والے بہت سے قیدی ہلاک ہو گئے تھے۔ بچ رہنے والے قیدیوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد درجنوں زخمیوں کو کسی بھی طرح کی فوری طبی مدد نہ پہنچائی گئی جبکہ ان میں کئی ایسے تھے جن کی زندگی خطرے میں تھی۔ اس دوران قیدیوں میں شامل یوکرین کے فوجی ڈاکٹر نے ہی انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔

قیدیوں نے بتایا کہ طبی سازوسامان مہیا نہ کیے جانے کے باعث بستر کی چادریں پھاڑ کر قیدیوں کی مرہم پٹی کی گئی۔ بہت سے زخمی اس واقعے سے کچھ ہی دیر کے بعد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حراستی مرکز کی انتظامیہ نے ان کی جان بچانے کی کوئی کوشش نہ کی۔

انصاف کا مطالبہ

ایرک موس نے بتایا کہ روس کے قید خانوں میں تشدد کا سامنا کرنے والے بہت سے قیدیوں کو ناقابل علاج جسمانی و ذہنی نقصان برداشت کرنا پڑا جس سے ان کے خاندان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین اور ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف ملنا چاہیے۔

کمیشن نے دوران قید تشدد کے واقعات کی تحقیقات، اس کا ارتکاب کرنے والوں کی نشاندہی اور ان کے محاسبے جبکہ متاثرین کو جامع طور سے مدد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

شہری تنصیبات پر حملے

کمیشن یوکرین کے شہری علاقوں میں دھماکہ خیز مواد سے کیے جانے والے حملوں کی تفصیلات بھی جمع کر رہا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ روس کی جانب سے طبی اداروں، ثقافتی مقامات، رہائشی عمارتوں اور خریداری مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

روس کی جانب سے توانائی کے نظام پر متواتر حملوں کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بجلی سے محرومی کا سامنا ہے۔ ان حالات میں معمر لوگ اور معذور افراد خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

بجلی منقطع ہونے کے نتیجے میں آن لائن تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں بے گھر اور جسمانی معذور بچوں کی تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے جنہیں آن لائن پڑھائی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

تحقیقاتی کمیشن

یوکرین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کا غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن 4 مارچ 2022 کو قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد ملک میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پامالیوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ کمیشن اس جنگ کے تناظر میں ہونے والے جرائم پر بھی نظر رکھتا ہے۔

کمیشن کو یہ ذمہ داریاں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے تفویض کی ہیں۔ اس کے ارکان اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔