مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ، یو این امدادی ادارے
اقوام متحدہ کے امدادی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جوابی حملوں اور غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ سمیت متعدد مقامات پر بمباری کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نئی بلندیوں کو چھونے لگی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی لبنان میں لوگوں کو فون اور سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوج کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ ایسی عمارتوں اور دیہات سے دور رہیں جو حزب اللہ کے زیراستعمال ہوں۔
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار جینین ہینز پلاشرٹ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے بات چیت کی غرض سے اسرائیل پہنچ گئی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا ایسا کوئی حل نہیں جو فریقین کو تحفظ کی ضمانت دے سکے۔
مشن کی تشویش
لبنان اور اسرائیل کی سرحد 'بلیو' لائن کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن 'یونیفیل' نے حالیہ کشیدگی کے بعد سرحد کے دونوں اطراف شہریوں کے تحفظ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آرولڈو لازارو نے دونوں فریقین سے رابطہ کر کے کشیدگی میں کمی لانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تناؤ کو کم کرنے اور حملے روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں مزید اضافے کے دور رس، وسیع تر اور تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ شہریوں پر حملے ناصرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ جنگی جرائم کے مترادف بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے فریقین سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کے لیے کہا ہے۔
بارشیں اور طبی خطرات
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) نے بتایا ہے کہ وسطی غزہ کے نصیرت کیمپ میں اسرائیل کے حملے میں بہت سی پناہ گاہیں تباہ ہو گئی ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث ساحلی علاقوں میں قائم پناہ گاہوں کو نقصان پہنچا ہے جہاں اسرائیل کی فوج کے احکامات پر لوگوں کو کئی مرتبہ انخلا کرنا پڑا ہے۔
مقامی حکام نے نشیبی علاقوں میں قیام پذیر لوگوں کو سیلابی پانی سے تحفظ دینے کے لیے بلند جگہوں پر جانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اقوام متحدہ کی امدادی ٹیموں اور شراکت داروں نے بتایا ہے کہ انہیں بارشوں سے متاثرہ لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے تحفظ کی ضمانت نہیں مل سکی۔
'انرا' نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کھلی جگہوں پر پناہ گزین لوگوں کی صحت کو جا بجا جمع گندے پانی سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ بارشوں کے باعث بہت سے مقامات پر پانی کھڑا ہونے سے یہ خطرات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ صفائی کا انتظام نہ ہونے کے باعث خیمہ بستیاں حشرات اور چوہوں کی آماجگاہ بن گئی ہیں۔
ادارہ گندگی اٹھانے اور لوگوں کی صحت کو تحفظ دینے کے لیے متعدد مقامات پر سپرے کر رہا ہے۔ تاہم یہ مسئلہ غزہ بھر میں بہت بڑے پیمانے پر صفائی مہم کا تقاضا کرتا ہے۔
ایندھن اور صاف پانی کی قلت
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ شمالی غزہ میں صاف پانی کی قلت کے باعث لوگوں کی صحت و زندگی خطرے میں ہے۔ ایندھن کی کمی کے باعث پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کی سہولیات کو چالو رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی شراکت دار شمالی علاقے میں ایندھن پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں تاہم عدم تحفظ اور اسرائیلی فوج کی چوکیوں پر جانچ پڑتال کے دوران طویل تاخیر کے باعث یہ کام انتہائی مشکل صورت اختیار کر گیا ہے۔
رسائی کے مسائل کے علاوہ پانی کی فراہمی کے نظام کو اسرائیلی حملوں سے پہنچنے والے نقصان کے باعث بھی یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ فاضل پرزہ جات اور کلورین کی عدم دستیابی کے باعث بہت سی جگہوں پر پانی کی ترسیل اور اس کی صفائی کا نظام بحال نہیں ہو پایا۔
یونیسف کا امدادی کردار
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ وہ غزہ میں تقریباً 900,000 لوگوں کو روزانہ فی کس 15 لٹر پانی مہیا کر رہا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر سے اب تک یونیسف نے خان یونس، رفح اور وسطی غزہ میں 17 لاکھ لوگوں کو بوتلوں میں 4.75 ملین لٹر پانی فراہم کیا ہے۔
ادارے نے مقامی حکام کو 3.4 ملین لٹر سے زیادہ ایندھن اور پانی صاف کرنے کے 40 کیوبک میٹر کیمیکل بھی مہیا کیے ہیں جس کی بدولت سمندری پانی کو صاف کرنے کے پلانٹ چالو کر کے ان سے سے کسی حد تک پانی کی ترسیل بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
یونیسف خان یونس اور رفح میں پانی صاف کرنے کے چار متحرک پلانٹ چلانے میں بھی مدد دے رہا ہے۔ ان میں ہر پلانٹ میں پانچ کیوبک میٹر فی گھنٹہ پانی فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔ بعدازاں یہ پانی ٹینکروں کے ذریعے خیمہ بستیوں میں پہنچایا جاتا ہے۔