جانیے اقوام متحدہ میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے؟
عالمی رہنما اور مختلف شعبوں کے نمایاں ماہرین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں جو دنیا کو مزید صحت مند بنانے سے لے کر جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے تک بہت سے امور اور مسائل پر بات چیت کریں گے۔
اس اجلاس کے دوران 22 تا 30 ستمبر اعلیٰ سطحی ہفتے میں تمام لوگوں کے لیے بہتر، محفوظ تر اور ماحول دوست مستقبل تخلیق کرنے کے لیے خاص فیصلے کیے جانا ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل باتوں سے آگاہی اہم ہے۔
کانفرنس برائے مستقبل: دنیا اپنے وعدے پورے کرے تو کیا ہو گا؟
اگر عالمی رہنما پائیدار ترقی کے حوالے سے متفقہ طور پر طے شدہ اہداف پر عملدرآمد کے وعدے پورے کریں تو دنیا کیسی دکھائی دے گی؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں بھوک ہو گی نہ غربت، کرہ ارض آلودگی سے پاک ہو گا، لوگ صاف ہوا میں سانس لیں گے اور سبھی کو پینے کا صاف پانی میسر ہو گا۔ ہر جانب صنفی مساوات ہو گی، دنیا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو گی اور تنازعات بموں کے بجائے سفارتی بات چیت سے حل کیے جائیں گے۔
مستقبل کی کانفرنس کا ایجنڈا بھی یہی ہے جو اعلیٰ سطحی ہفتے کا اہم ترین اجلاس ہو گا۔ 22 اور 23 ستمبر کو ہونے والی اس کانفرنس میں عالمی رہنما، سول سوسائٹی اور ماہرین بڑھتی سطح سمندر سے لے کر بھوک کے خاتمے تک بہت سے اہم مسائل کے حل پر بات چیت کریں گے۔ کانفرنس میں مستقبل کا معاہدہ بھی منظور کیے جانے کی توقع ہے جس میں ان اہداف کی تکمیل کے لیے عملی اقدامات کے وعدے شامل ہوں گے۔
اس بارے میں ہمارے خصوصی صفحے پر مزید معلومات حاصل کیجیے۔
کانفرنس کے 'عملی ایام'
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مستقبل کی کانفرنس کے آغاز سے قبل 20 اور 21 ستمبر کو ایک خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ اس میں نوجوان، رکن ممالک کے نمائندے، سول سوسائٹی کے ارکان اور ماہرین دنیا کو درپیش بڑے مسائل کے کامیاب حل سے متعلق بہترین عملی اقدامات کی مثالیں پیش کریں گے۔
اس دوران تمام لوگوں کے لیے بہتر ڈیجیٹل، پرامن اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے ایسے طریقے زیربحث آئیں گے جن سے مزید مشمولہ اور مربوط کثیرفریقی نظام کی راہ ہموار ہو گی۔
کانفرنس کے ان ایام کے بارے میں یہاں مزید جانیے۔
سطح سمندر میں اضافے کا مسئلہ
25 ستمبر کو ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں عالمی رہنما اور متعلقہ فریقین تیزی سے بڑھتی سطح سمندر کے ہنگامی مسئلے سے نمٹنے کے لیے بات چیت کریں گے۔
جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے گزشتہ مہینے ٹونگا میں بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کے فورم میں کہا تھا، ان ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات کے مقابل کرہ ارض کو تحفظ دینے کے لیے دنیا کی رہنمائی کرنا ہو گی۔
اس اجلاس میں سطح سمندر میں اضافے کو روکنے کے لیے عام سمجھ بوجھ بیدار کرنے، سیاسی قیادت کو متحرک کرنے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس ضمن میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور نشیبی ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں سمیت سبھی کے لیے پائیدار مستقبل کی تعمیر کو مدنظر رکھا جائے گا۔
موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے اس مسئلے اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے بارے میں یہاں مزید جانیے۔
جراثیم کش ادویات بے اثر ہو جائیں تو کیا ہوتا ہے؟
عالمی رہنما اعلیٰ سطحی ہفتے میں 26 ستمبر کو جراثیمی مزاحمت (اے ایم آر) پر منعقدہ اجلاس میں اس سوال سے نبردآزما ہوں گے۔ یہ مسئلہ سالانہ 10 لاکھ سے زیادہ اموات کا سبب بن رہا ہے۔
اس موقع پر ممالک اور متعلقہ فریقین اس قابل انسداد مسئلے سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پانے کی نئی کوششوں اور اس ضمن میں اقدامات کی رفتار تیز کرنے پر بات چیت کریں گے۔
ہمارے وضاحت نامے میں 'اے ایم آر' اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے بارے میں مزید جانیے۔
جوہری اسلحے سے پاک دنیا کے لیے اقدامات
جنرل اسمبلی 26 ستمبر کو جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے عالمی دن پر اس بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد کرے گی۔
اس اجلاس میں جوہری بموں اور ان کے تجربات سے متاثرہ ممالک سمیت اقوام متحدہ کے تمام ارکان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی تجاویز دیں گے۔
اجلاس کے بارے میں یہاں مزید جانیے۔
فلسطین کا مسئلہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں فلسطین کے بارے میں دو اجلاس منعقد ہوں گے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں (غزہ اور مغربی کنارہ) میں تعلیم کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس 25 ستمبر کو ہو گا۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا امدادی ادارہ (انرا)، یونیسکو، یونیسف اور غیرسرکاری ادارہ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' اس اجلاس کے میزبان ہوں گے۔ اس موقع پر 'انرا' کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن کے خطابات متوقع ہیں۔
26 ستمبر کو 'انرا' کے ساتھ تعاون کے موضوع پر اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں سیکرٹری جنرل افتتاحی خطاب کریں گے۔
عام مباحثہ: عالمی رہنماؤں کی تقاریر
کیمرون سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ 24 ستمبر کو اسمبلی کے عام مباحثے کا آغاز کریں گے۔ اس موقع پر دنیا بھر کے رہنما 'کوئی پیچھے نہ رہے: موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے امن، پائیدار ترقی اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات' کے موضوع کو لے کر اپنے ملک کے حوالے سے بات کریں گے۔
یہ مباحثہ 28 ستمبر تک جاری رہے گا جس میں اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کے نمائندے باہم مربوط عالمگیر مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی تجاویز دنیا کے سامنے لائیں گے۔
رہنماؤں کی کانفرنس
24 ستمبر کو نیویارک کے جیویٹس سنٹر نارتھ میں اقوام متحدہ کے عالمگیر معاہدے پر رہنماؤں کی کانفرنس کے موقع پر 2030 کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نجی شعبے کے کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے درکار ذرائع، ارتباط، علم اور تحریک پر بات چیت ہو گی۔
اس موقع پر اعزاز یافتہ اداکار اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے خیرسگالی سفیر ڈان شیڈیل، فیوچر ٹوڈے انسٹیٹیوٹ کی بانی اور سی ای او ایمی ویب اور اقوام متحدہ کے عالمگیر معاہدے کی معاون سیکرٹری جنرل سیڈا اوکیامبو خطاب کریں گے۔
اس اجلاس کے بارے میں یہاں مزید جانیے۔
پائیدار ترقی کے اہداف
جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس پائیدار ترقی کے 17 اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت تیز کرنے کی عالمگیر کوششوں میں اہم سنگ میل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
اجلاس میں 23 تا 27 ستمبر ایس ڈی جی میڈیا زون دنیا بھر سے آئے نوجوانوں، ماہرین اور اہم شخصیات کے ساتھ ایسے امور و مسائل پر بات چیت کرے گا جو ہر جگہ تمام لوگوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
اس بارے میں یہاں مزید جانیے۔