مستقبل پر یو این کانفرنس میں نوجوان اور ان کے خیالات مرکز توجہ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کانفرنس برائے مستقبل سے قبل عالمی مسائل پر غورخوض کے لیے ہونے والے اجلاس کے پہلے روز نوجوانوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی جنہوں نے صنفی مسائل، موسمیاتی بحران، امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس کو کانفرنس سے پہلے 'عملی ایام' کا نام دیا گیا ہے۔ مستقبل کی کانفرنس عالمی رہنماؤں کے لیے موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی مسائل کو حل کرنے اور پرانے ہو چکے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات لانے کا ایک غیرمعمولی موقع ہو گا۔
گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ کے پہلے معاون سیکرٹری جنرل برائے امور نوجوانان فیلپ پاؤلیئر نے اس کانفرنس کو کثیر فریقی نظام کی تشکیل نو اور اس میں نوجوانوں کو مرکزی جگہ دینے کا ایسا موقع قرار دیا جو کبھی کبھار ہی آتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے یادگار دن
فیلپ پاؤلیئر نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اپنے پروگرام میں ایک دن صرف نوجوانوں کے لیے مخصوص کیا ہے اور دس سال پہلے اس دن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
22 اور 23 ستمبر کو ہونے والی کانفرنس میں عالمی رہنما متوقع طور پر مستقبل کے معاہدے کی منطوری دیں گے۔ اس میں پائیدار ترقی اور اس مقصد کے لیے ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی فراہمی، امن و سلامتی، سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع، نوجوان اور آئندہ نسلوں اور عالمگیر انتظام میں تبدیلی لانے سے متعلق امور پر اہم وعدے شامل ہوں گے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متعلق ایک معاہدہ اور نئی نسل کے حوالے سے ایک اعلامیہ بھی اس معاہدے کا حصہ ہو گا۔
مستقبل کی تشکیل
کانفرنس سے پہلے ہونے والے اس اجلاس میں نوجوان بین الاقوامی مالیاتی نظام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی تجاویز کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ یہ دونوں ادارے 80 سال قبل اس وقت تشکیل دیے گئے تھے جب بہت سے ممالک بدستور نوآبادیاتی حکمرانی میں تھے۔
اجلاس میں کینیا سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما اور اقوام متحدہ میں 'بچوں اور نوجوانوں پر میجر گروپ' کے رکن ٹیری اوٹینو کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے مستقبل کی کانفرنس کے لیے سال بھر کی جانے والی تیاریوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یمن سے تعلق رکھنے والی عریج کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں جو فیصلے کیے جائیں گے وہ آنے والی دہائیوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی زندگی پر اثرانداز ہوں گے۔ 'ہمیں ان کے لیے مستقبل تشکیل دینا اور یہ دیکھنا ہے کہ آیا انہیں جنگوں، غربت اور خوف سے عبارت دنیا ملے گی یا وہ امید، سلامتی اور مواقع کے ساتھ جئیں گے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہے کہ آیا ہم ایسے اقدامات کے لیے تیار ہیں جن سے ہر بچے کو آگے بڑھنے اور ترقی پانے کا موقع مل سکے'
نوجوانوں کی 'علامتی' حیثیت
اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ساتھ ایک بات چیت سے قبل لیے گئے جائزے میں نوجوانوں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ فی الوقت اقوام متحدہ کے معاملات میں ان کی شرکت 'علامتی' ہے۔
بارباڈوز یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل کے صدر سیلب بریتھ ویٹ نے جائزے کے نتائج کو حسب توقع قرار دیتےہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے حالیہ دنوں کہا تھا کہ موجودہ کثیرفریقی نظام ہمارے اجداد نے بنایا تھا۔
بریتھ ویٹ نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل کا معاہدہ 'محض معاہدہ' ہی ہو گا اور عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس پر عملدرآمد کے لیے کام کریں اور اس ضمن میں دنیا بھر کے ممالک میں 'یو این یوتھ' کے دفاتر قائم کیے جائیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی حکومتوں سے برابر جواب طلبی کریں تاکہ معاہدے میں نوجوانوں اور آئندہ نسلوں کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
'ہماری بات سنیں'
نوجوانوں کے حقوق کی کارکن اور منتظم ڈیفنی فریئس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے نظام میں نوجوانوں کی علامتی موجودگی کے حوالے سے فریبانہ بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کی بات تو ہوتی ہے لیکن ان کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی نسل کی آوازوں پر کان دھرا جائے۔ نوجوانوں کو ناصرف اقوام متحدہ کے ساتھ رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ انہیں تعلیم اور زبان کی رکاوٹوں اور دیگر مسائل کے باعث ادارے میں ملازمتیں بھی نہیں ملتیں۔
اصلاحات کا عزم
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ادارے میں نوجوانوں کی آواز سننے کے لیے طریقہ کار ترتیب دینے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے لیکن تاحال بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے لیے کئی طرح کی اصلاحات درکار ہیں اور اقوام متحدہ جیسے بین الحکومتی ادارے میں ایسا کرنا آسان کام نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، سول سوسائٹی اور دیگر کو فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت کی ضمانت دینا مستقبل کی کانفرنس اور عالمی اداروں کے لیے مجوزہ اصلاحات کا اہم حصہ ہے اور اس ضمن میں بھرپور کام بھی ہو رہا ہے۔