انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا کو بحرانوں کا سامنا لیکن یو این ان سے نمٹنے کے لیے پرعزم، گوتیرش

گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پائیدار ترقی کے اہداف کے رنگوں کی مناسبت سے یہ پویلین بھی بنایا گیا تھا۔
© Partnerships Office/Patrick M
گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پائیدار ترقی کے اہداف کے رنگوں کی مناسبت سے یہ پویلین بھی بنایا گیا تھا۔

دنیا کو بحرانوں کا سامنا لیکن یو این ان سے نمٹنے کے لیے پرعزم، گوتیرش

اقوام متحدہ کے امور

بڑھتی ہوئی غربت سے لے کر بدترین صورت اختیار کرتے موسمیاتی بحران تک ہر طرح کے مسائل کی موجودگی میں اقوام متحدہ امن و پائیدار ترقی کے فروغ اور انسانی مصائب کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ادارے کی 79ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے قبل اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ ان اہم مسائل پر قابو پانے کے لیے ثابت قدمی سے کوششیں کر رہا ہے۔

Tweet URL

اس رپورٹ میں انہوں نے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی مشکل حالات پر قابو پانے کی صلاحیت کا تذکرہ بھی کیا ہے جو کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا کرتے ہوئے بھی لوگوں کو امید اور مدد مہیا کرتے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ انہیں اقوام متحدہ کے عملے پر بے حد فخر ہے جو شکستہ اور کئی حوالوں سے خطرناک دنیا میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ 2023 میں اقوام متحدہ نے 74 ممالک میں اپنے شراکت داروں کے تعاون سے 245 ملین لوگوں کو مدد پہنچائی اور 160 ملین لوگوں کو ہنگامی بنیادوں پر تحفظ مہیا کیا۔

امن و سلامتی کا قیام

عالمی امن و سلامتی کو لاحق بڑھتے ہوئے مسائل کی موجودگی میں امن کے لیے سفارت کاری کو اقوام متحدہ کے کام میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اسی مقصد کے لیے سیکرٹری جنرل نے امن کے لیے نیا ایجنڈا تجویز کیا ہے جس میں دیگر اقدامات کے علاوہ دنیا کے مشترکہ مستقبل کو لاحق باہم مربوط خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیرفریقی اقدامات اٹھانے کو کہا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 34 برس میں پہلی مرتبہ سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 99 سے رجوع کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی توجہ غزہ۔اسرائیل تنازع کی جانب دلائی اور وہاں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کو کہا۔

اقوام متحدہ نے علاقائی کشیدگی کو روکنے، فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کرانے اور بین الاقوامی قانون اور ادارے کی متعلقہ قراردادوں کی مطابقت سے مسئلے کا دو ریاستی حل نکالنے کے لیے کام کیا۔

قومی امن منصوبوں میں تعاون

اقوام متحدہ نے امن بات چیت میں بھی سہولت مہیا کی، قیام امن کے لیے کوششوں میں مدد دی اور سوڈان سمیت دنیا بھر میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ علاوہ ازیں، ادارے نے مالی میں قیام امن کے لیے اپنے مشن میں شامل 13 ہزار اہلکاروں کے انخلا کی نگرانی کی۔ یہ انخلا ملک میں سلامتی کے حالات میں تیزی سے پیدا ہونے والے بگاڑ کے باعث آیا۔

36 ممالک میں قومی امن منصوبوں کی مدد کے لیے 200 ملین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل مہیا کیے گئے اور اس معاملے میں صنفی مساوات کے لیے اقدامات کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔ افریقن یونین جیسے علاقائی اداروں کے ساتھ شراکتوں کے ذریعے تنازعات کی روک تھام کی کوششوں کو مزید بہتر بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک ان پھٹے بم کا معائنہ کر رہی ہے۔
© UNOCHA/Themba Linden
اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک ان پھٹے بم کا معائنہ کر رہی ہے۔

ہنگامی انسانی امداد

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ سال دنیا بھر کے عطیہ دہندگان سے 22.7 ارب ڈالر جمع کیے جنہیں افغانستان، سوڈان، یمن اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ضروری امداد پہنچانے کے پروگراموں پر خرچ کیا گیا۔ علاوہ ازیں ان مالی وسائل سے شام اور ترکیہ میں زلزلوں اور لیبیا، ملاوی اور موزمبیق میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو بھی ہنگامی انسانی امداد پہنچائی گئی۔

تاہم ان امدادی کارروائیوں میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والوں کا جانی نقصان بھی ہوا۔ 2023 میں جتنی بڑی تعداد میں ادارے کے امدادی عملے کی ہلاکتیں ہوئیں اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان میں بیشتر لوگوں کا تعلق فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) سے تھا جو غزہ کی پٹی میں فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

سیکرٹری جنرل نے ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اقوام متحدہ دنیا کے کمزور ترین لوگوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف

2023 میں پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) پر ہونے والی کانفرنس میں چھ ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا اور ان اہداف کے حصول کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔ فی الوقت ان میں سے صرف 15 فیصد اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت درست سمت میں جاری ہے اور بہت سے ترقی پذیر ممالک کو پائیدار مستقبل یقینی بنانے کے لیے درکار وسائل کے حصول میں مسائل کا سامنا ہے۔

'واٹر ایکشن ایجنڈا' اور پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے معاہدے جیسے ماحولیاتی اقدامات بھی 2023 میں اقوام متحدہ کو حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیاں قرار دیے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں موسمیاتی اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کا کام بھی اہم تھا جس میں معدنی ایندھن سے توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقلی، ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے نقصان اور تباہی کے فنڈ کا آغاز اور 2030 تک جنگلات کے رقبے میں ہونے والی کمی کو روکنا خاص طور پر اہم ہیں۔

زمین کی حفاظت کے لیے منائے جانے والے ’ارتھ آور‘ کے موقع پر نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کی تمام روشنیاں گل کی گئیں۔
UN Photo/Manuel Elías
زمین کی حفاظت کے لیے منائے جانے والے ’ارتھ آور‘ کے موقع پر نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کی تمام روشنیاں گل کی گئیں۔

انسانی حقوق اور کثیرفریقی طریقہ کار

انسانی حقوق کو اقوام متحدہ کے مشن میں بدستور مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ گزشتہ سال ادارے نے خواتین کے خلاف تشدد کا خاتمہ کرنے، دیہی خواتین کو بااختیار بنانے اور آئینی عمل میں ان کی نمائندگی یقینی بنانے کے اقدامات میں مدد فراہم کی۔

سیکرٹری جنرل نے کثیرفریقی اصولوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تنازعات کے بعض فریقین شہریوں، ہسپتالوں، انسانی امداد اور سکولوں کو بلا روک و ٹوک نشانہ بنا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے مستقبل کی کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں امن، سلامتی اور مصنوعی ذہانت کے انتظام جیسے مسائل پر پالیسی بریف جاری کیے۔ ان کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر کی اقدار کو دوبارہ مضبوط بنانا اور عوامی سطح پر گمراہ کن اور غلط اطلاعات کے پھیلاؤ جیسے عالمی مسائل پر قابو پانا تھا۔

اقوام متحدہ کے عملے کا عزم

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس میں کام کرنے والے لوگ موجودہ مشکل حالات میں مزید پرامن، صحت مند، مساوی اور ایسے خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے ہر قدم پر دنیا کا ساتھ دیں گے جس میں کوئی کسی سے پیچھے نہ رہے۔

دنیا بھر کے لوگوں کی خاطر ایسے نتائج کے حصول اور ہر فرد کو مدد اور امید مہیا کرنے کے لیے ان کا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔